The news is by your side.

Advertisement

شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں مرد و خواتین کا ایک ساتھ کھانا کھانا حرام قرار، فتویٰ جاری

مظفرنگر: بھارت کے مفتیانِ کرام نے شادی بیاہ سمیت دیگر تقریبات میں خواتین اور مردوں کے ایک ساتھ کھانا کھانے اور مشترکہ تقریب منعقد کرنے کے عمل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے تحریری فتویٰ جاری کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی شہری نے مظفر نگر میں قائم دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے مسئلہ دریافت کیا کہ مرد و خواتین کا تقریبات میں ایک ساتھ بیٹھنا اور کھانا کھانا کیسا عمل ہے؟ اس ضمن میں قرآن کو حدیث کی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟۔

دارالعلوم نےمسئلے کا جواب بیان کرتے ہوئے فتویٰ جاری کیا کہ ’مردوں اور خواتین کا اجتماعی طور پر ایک ساتھ شامل ہوکر کھانا کھانا گناہ ہے لہذا مسلمان اس عمل سے بچیں‘۔

مفتیان کرام نے فتویٰ میں شادی یا دیگر تقاریب میں اجتماعی کھانا کھانے کو ناجائز عمل قرار دیتے ہوئے اسے حرام قرار دیا جبکہ کھڑے ہو کر کھانا کھانے کو بھی غیر مہذب اور حرام قرار دیا۔

مزید پڑھیں: خواتین کا نیل پالش یا ناخنوں پر مہندی لگانا غیر شرعی عمل ہے، فتویٰ

فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے بیٹھنے کا علیحدہ سے انتظام کیا جائے اور وہاں کسی محرم کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دارالعلوم دیوبند کے سینئر مفتی نے تحریری فتویٰ سیمینار میں پڑھ کر سنایا اور دیگر مفتیوں کو نصحیت کی کہ وہ شریعت کی روشنی میں امتِ مسلمہ کو مسئلے کی اہمیت سے اجاگر کریں۔

دارالعلوم دیوبند مظفر نگر۔۔ تصویر بشکریہ ٹائمز آف انڈیا

دوسری جانب خواتین کے حقوق کے لیے بنائے جانے والے سرکاری ادارے کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے فتویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کے شمالی علاقے میں واقع دارالعلوم دیوبند کی جانب سے ایسے فتوے جاری کیے جاتے ہیں جو موضوع بحث بن جاتے ہیں۔

دارالافتا کی ویب سائٹ پر بھارت میں مقیم مسلمان مختلف مسائل پوچھتے ہیں جن کو قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کا آئی بروز بنوانا اور بال کٹوانا حرام ہے، متفقہ فتویٰ جاری

اسے بھی پڑھیں: ویزا کے لیے منگیتر اور دوست کی شادی کرانا جائز ہے؟ امام کعبہ سے لائیو شو میں فتوی طلب

قبل ازیں بھارتی ریاست اترپردیش میں موجود دارالعلوم کے مفیتان کرام نے 5 نومبر 2018 کو خواتین کے نیل پالش لگا کر نماز پڑھنے کے حوالے سے ایک فتویٰ جاری کیا تھا۔

دارالعلوم کی جانب سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا تھا کہ ’ ناخنوں پر خوبصورتی کے لیے نیل پالش یا مہندی استعمال کرنے والی خواتین غیر شرعی عمل کررہی ہیں‘۔

مفتی اشعر گورا نے سیمینا کی تقریب کے دوران فتویٰ دیا کہ دینِ اسلام میں ناخنوں پر مہندی یا نیل پالش لگانے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وضو کا پانی ناخنوں تک نہیں پہنچتا اور اسی وجہ سے نماز نہیں ہوتی۔

رواں برس دارالعلوم دیوبند کی طرف سے فتویٰ جاری کیا گیا تھا کہ خواتین مردوں کا فٹبال میچ نہیں دیکھ سکتیں کیونکہ کھلاڑیوں کے لباس غیر شرعی ہوتے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ دارالعلوم دیوبند نے گزشتہ برس بھی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں خواتین کے بال کٹوانے یا آئی بروز بنوانے کے عمل کو غیر شرعی قرار دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں