The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا کے خلاف بڑی کامیابی، امریکی کمپنی میدان میں آگئی

نیویارک: کرونا وبا کے خلاف عالمی لڑائی میں اہم موڑ آگیا، امریکا کی معروف ادویات ساز کمپنی نے بڑا فیصلہ کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی معروف ادویات ساز کمپنی نے نگران ادارے سے کووڈ 19 کا علاج (اورل) کرنے کی اجازت طلب کرلی ہے۔

مرک کے سائنسدانوں نے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے ‘مولنُوپی راوِیر’ کے ہنگامی استعمال کی اجازت طلب کی ہے, ان کے مطابق یہ دوا وائرس کی افزائش کو روکنے کے لیے اس کی جنیاتی کوڈ میں گمراہ کن کوڈ داخل کرتی ہے۔

مرک کمپنی کی اس دوائی کا نام مولن اپیراویر رکھا ہے، یہ ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے کیونکہ کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کی یہ پہلی دوا ہے، جو منہ کے ذریعے مریض نگل سکے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق اس طریقہ علاج سے بیماری کے ابتدائی مراحل سے مریض کی علامات شدت اختیار نہیں کرتیں، بے اثر دوائی کے مقابلے میں اس دوائی کے استعمال سے اسپتال داخل ہونے یا موت واقع ہونے کا خطرہ تقریباً 50 فیصد کم ہوا ہے، جسے کرونا وبا کے خلاف عالمی لڑائی میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈبلیو ایچ او کا کرونا ویکسین کی تیسری ڈوز سے متعلق اہم مشورہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی اداروں کی طرف سے منظوری کے بعد یہ دوا کووڈ کے علاج کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی گولی ہوگی جو پہلے سے موجود ان ادویات کا حصہ بن جائے گی جو ویکسین کی شکل میں موجود ہیں۔

امریکی دوا ساز ادارے مرک نے واضح کیا کہ اس دوا کی باضابطہ منظوری کے بعد یہ دس ملین دوا کے کورسز تیار کر سکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں