The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: فضائی کمپنیوں کی درمیانی نشست خالی چھوڑنے کی مخالفت

لندن / نیویارک: کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں دنیا بھر کی معیشتوں پر بدترین اثرات رونما ہوئے ہیں وہیں فضائی کمپنیاں بھی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئیں، ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ ماسک پہن کر جہاز میں سفر کیا جاسکتا ہے تاہم درمیانی نشست خالی چھوڑنے پر اختلافات ہیں۔

سعودی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فضائی آپریشن بحال کرنے پر بحث ہو رہی ہے اور ایسے میں ایئر لائنز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) نے ماسک پہن کر جہاز میں سفر کرنے کی حمایت کی ہے۔

تاہم اس تنظیم نے جہاز میں احتیاط کے طور پر درمیانی نشتوں کو خالی رکھنے کے اپنے ہی مؤقف کی مخالفت کی ہے۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیف اکانومسٹ بریان پیرس نے کہا ہے کہ اگر درمیانی نشستوں کو خالی رکھا گیا تو اکثر ایئر لائنز منافع نہیں کما سکیں گے۔

اپریل میں آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل الیگزینڈر ڈی جونیک نے کہا تھا کہ فضائی آپریشنز کی بحالی کے لیے دنیا کی دیگر حکومتوں کے ساتھ کی جانے والی بات چیت میں جہاز کی درمیانی نشستوں کو خالی رکھنے کا آپشن زیر غور ہے۔

دوسری جانب فضائی کمپنی ورجن اٹلانٹک ایئر لائن نے کرونا وائرس کے بحران کی وجہ سے اپنے 3 ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آئی اے ٹی اے کے میڈیکل ایڈوائزر ڈیوڈ پال نے میڈیا کو بتایا کہ جہاز میں چہرے کو ڈھانپنا، ماسک پہننا اور دیگر اقدامات بشمول جہاز میں سوار ہونے سے قبل مسافروں کا بخار چیک کرنا اور صفائی کا خیال رکھنے سے فضائی آپریشن کو محفوظ طریقے سے بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

دیگر ایئر لائنز جیسے جرمن لفتھانسا اور ہنگری کی وز نے پہلے ہی مسافروں کے لیے جہاز میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا تھا۔

تاہم آئی اے ٹی اے نے منگل کو ہونے والی آن لائن نیوز کانفرنس میں یہ کہہ کر یوٹرن لے لیا ہے کہ درمیانی نشستوں کو خالی رکھ کر مسافروں کی حفاظت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں