The news is by your side.

Advertisement

ملک دیوالیہ کی طرف جارہا تھا ہم نے وہ راستہ تبدیل کردیا، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کی طرف جارہا تھا اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے وہ راستہ تبدیل کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں مالی سال22-2021 کے اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا تھا ہم نے وہ راستہ تبدیل کردیا، اللہ کی مہربانی سے ہم مشکل فیصلے لینے میں کامیاب ہوئے اور انشااللہ جلد تعالیٰ معیشت کو استحکام تک پہنچادیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت میں گروتھ ہوتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتا ہے، اس سال درآمدات پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد زیادہ رہیں، پاکستان کا تجارتی خسارہ اس وقت 45 ارب ڈالر کا ہے، ملکی برآمدات میں اس سال صرف 28 فیصد اضافہ ہوا ہے، درآمدات اور برآمدات کا تناسب 60 اور 40فیصد ہونا تشویشناک ہے اس تناسب کو پچاس 50 فیصد ہونا چاہیے۔

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر آنے کے بعد زرمبادلہ ذخائر بہتر ہوجائیں گے، اسوقت عالمی سطح پر تیل کی قیمت 120 سے 123 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہیں عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے پر ہمیں بھی پٹرول مہنگا کرنا پڑا۔

انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرح سے خان صاحب نے چیک لکھ کر دے دیا تھا، عمران خان نے عوام کو ایسا چیک لکھ کردیا کہ جس کے پیسے بینک میں نہیں تھے، انہیں معلوم تھا کہ وہ جارہے ہیں اور جب چیک کیش کا وقت ہوگا تو کوئی اور ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے سے ڈالر مہنگا ہوا، اب شہباز شریف حکومت ہے اس لیے چیک کیش کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے جوبارودی سرنگیں بچھائیں وہ ریاست کیلیے تھیں، انہوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، کورونا کے دوران جو مواقع تھے اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا، کورونا کےدوران پاکستان کیلئے 4 ملکوں نے ادائیگیاں مؤخر کیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب درآمدات بڑھتی ہیں تو معیشت پر بوجھ آتا ہے، درآمدی بل کو بھی کنٹرول کرنا ہے، اپنی صنعت کو برآمدات بڑھانے کیلئے لگائیں گے، بجلی بہت مہنگی ہوچکی اس لئے احتیاط کرنا ہوگی، اب ہر صنعت کو گیس دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں گیس کے طویل مدتی سودے کیے تھے، ماضی میں طویل المدتی سودے کرنے چاہیے تھے، اگر کورونا کے دوران طویل مدتی معاہدے کیے جاتے تو اتنی مہنگائی نہ ہوتی، نیو کلیئر پاور ملک کیلئے15 فیصد سےکم جی ڈی پی نہیں ہونی چاہیے، جب حکومتی ذمے داری ملی تو وفاقی حکومت کے ڈیفسٹ 56 ارب کے تھے، سی پیک کے ساتھ سوتیلی جیسا سلوک کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پورے پاکستان کیلئے مہنگائی ہوئی ہے، بجلی کے کارخانے نہ لگانے سے پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ ہوئی، سابق حکومت بیانات کے بجائےعملی اقدامات کرتی تو مہنگائی نہ ہوتی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں