The news is by your side.

Advertisement

پنشن قوانین کے خلاف فرانس بھر میں لاکھوں افراد کا احتجاج

پیرس: پنشن قوانین کے خلاف فرانس بھر میں لاکھوں افراد نے احتجاج کیا، ملک بھر میں شٹر ڈاؤن رہا، 15 لاکھ سے زائد مظاہرین نے ملک بھر میں احتجاج میں حصہ لیا۔

تفصیلات کے مطابق فرانس میں پنشن قوانین کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن رہا، پندرہ لاکھ سے زائد مظاہرین نے ملک بھر میں احتجاج کیا، دارلحکومت پیرس میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مظاہرین سڑکوں پر موجود رہے۔

احتجاج کے باعث 90 فی صد ٹرینیں اور 78 فی صد اسکول بھی بند رہے، 30 فی صد پروازیں بھی منسوخ ہوئیں، مظاہرے کے دوران چند شرپسند عناصر نے توڑ پھوڑ بھی کی اور پبلک پراپرٹی کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں، پولیس نے روایتی ہتکھنڈے استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانس میں ایک اور بڑی پہیہ جام ہڑتال

ملک بھر میں جاری یہ احتجاج اور ٹرانسپورٹ ہڑتال آیندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہ احتجاج نہیں کریں گے تو نئے قوانین کے تحت یا تو انھیں زیادہ کام کرنا پڑے گا یا کم تنخواہیں قبول کرنی پڑیں گی۔

دوسری طرف انتظامیہ نے مظاہرین کے شاہراہ شانزے لیزے جانے پر پابندی لگا دی ہے، 6 ہزار سے زائد پولیس اہل کار سیکورٹی کے لیے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ہڑتال میں وکلا، اسپتال عملے، ایئر پورٹ اسٹاف کے ساتھ ساتھ خود محکمہ پولیس کے اہل کار بھی بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں، خیال رہے کہ فرانس میں 1995 کے بعد یہ بڑی پہیہ جام ہڑتال ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں