The news is by your side.

Advertisement

مینارپاکستان واقعہ، متاثرہ خاتون سے متعلق مزید انکشافات

لاہور: 14 اگست کو مینارپاکستان پر ٹک ٹاکر سے پیش آنے والے واقعے پر متاثرہ خاتون سے متعلق ‏مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عائشہ کے ساتھیوں نے 15 پر پولیس کو پہلی کال 7بجکر15منٹ پر، دوسری ‏‏7بجکر26منٹ اور تیسری 8بجکر15منٹ پر کی۔

متاثرہ خاتون کو ڈولفن ٹیم ایس ایچ اولاری اڈہ کےپاس چھوڑ کر گئی تھی۔ عائشہ بیگ نےایس ایچ ‏او سے مزید کارروائی نہ کرنے کا کہا۔

ایس ایچ او نے پہلی ایف آئی آر اپنی مدعیت میں درج کر کےخاتون کو گھر بھیجا۔

ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ شرمناک واقعہ کے موقع پر مدد کے لیے پہچنے والےڈالفن اہلکار زمان ‏قریشی نے کہا ہے کہ اطلاع ملتے ہی روانہ ہوگئے تھے لیکن مینارپاکستان پر رش کی وجہ سے ‏پہنچنے میں تیس منٹ لگ گئے۔

نمائندے اے آر وائی نیوز بابر خان سے گفتگو کرتے ہوئے زمان قریشی نے کہا کہ مینارپاکستان ‏گیٹ سے اسٹیج تک پہچنےمیں30منٹ لگے، 500سے700لوگوں نےلڑکی کو گھیرا ہوا تھا۔

زمان قریشی نے بتایا کہ جب ہم پہنچے تو لڑکی برہنہ اور نیم بےہوش تھی، قریب موجود لڑکوں ‏سے قمیض لےکر لڑکی کو پہنائی۔

لاہور گریٹر اقبال پارک میں 14 اگست کو ٹک ٹاک ویڈیو بناتے وقت اچانک وحشی ہجوم نے عائشہ ‏اکرم پر حملہ کر دیا تھا، اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون نے کہا کہ مجھے ‏اندازہ نہیں تھا کہ اپنے شہر ہی میں محفوظ نہیں ہوں۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ایک کلپ ہی بنایا تھا کہ 400 سے 500 لوگوں نے مجھ پر حملہ کر دیا، ‏میرے ساتھ 10 سے 12 ساتھی تھے، لوگوں نے ان سب کو الگ کر کے مجھے قابو کیا، مجھ پر ‏تشدد کیا گیا، کوئی عریاں لباس بھی نہیں پہنا تھا مناسب لباس میں تھی، مجھے بار بار ہوا میں ‏اچھالا گیا، پتا ہی نہیں میرا قصور کیا ہے۔

انھوں نے کہا میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا واقعہ ہو جائے گا، اب تک یقین نہیں آ ‏رہا میرے ساتھ یہ سب ہوا، بے بسی کا یہ عالم تھا کہ موت کی دعائیں کیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مینارِ پاکستان واقعے کی کل صبح تک حتمی رپورٹ پیش کرنےکی ‏ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کل صبح تک حتمی رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے واقعے پر کل اجلاس طلب ‏کر لیا۔ پی ایچ اےکےکردارکاتعین کرنےکیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کی ٹک ٹاک ویڈیوز، مسیحائی کے شعبے سے تعلق ہونے کا انکشاف

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی سیکیورٹی پرماموراہلکاروں کی غفلت کا تعین ‏کرے گی یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اس کو جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو انصاف دلائیں گے کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے ‏جائیں گے واقعہ میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وزیراعلیٰ نے تحقیقات کو ‏جدید اورسائنٹیفک اندازسےآگے بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں