The news is by your side.

Advertisement

انوری و خاقانی اور میر

ولی دکنی، سودا، نظیر اکبرآبادی، انیس، غالب اور اقبال کے ہوتے ہوئے میر اردو شاعری میں عظمت کے تنہا مسند نشین نہیں ہیں اور نہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ پھر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اردو کے تمام شعرا میں سرفہرست میر ہی کا نام رہے گا۔

حالانکہ آج عام مقبولیت کے اعتبار سے غالب اور اقبال، میر سے کہیں آگے ہیں اور ان کی کتابیں کلیات میر کے مقابلہ میں بہت زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ ان کے اشعار زیادہ زبان زد ہیں۔ ان کے اثرات جدید شاعری پر زیادہ نمایاں ہیں۔ پھر بھی غالب اور اقبال کی شاعرانہ عظمت کے منکر موجود ہیں۔ مگر میر کی استادی سے انکار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہر عہد میں بڑے سے بڑے شاعر نے اپنا سر میر کی بارگاہ میں جھکا دیا ہے۔

’’لکھنؤ کے چند عمائد و اراکین جمع ہو کر ایک دن آئے کہ میر صاحب سے ملاقات کریں اور اشعار سنیں۔

دروازے پر آکر آواز دی۔ لونڈی یا ماما نکلی۔ حال پوچھ کر اندر گئی۔ ایک بوریا لاکر ڈیوڑھی میں بچھایا۔ انہیں بٹھایا۔ اور ایک پرانا سا حقہ تازہ کر کے سامنے رکھ گئی۔

میر صاحب اندر سے تشریف لائے۔ مزاج پرسی وغیرہ کے بعد انہوں نے فرمائشِ اشعار کی۔ میر صاحب نے اوّل کچھ ٹالا، پھر صاف جواب دیا کہ صاحب قبلہ میرے اشعار آپ کی سمجھ میں نہیں آنے کے۔ اگرچہ ناگوار ہوا مگر بہ نظرِ آداب و اخلاق انہوں نے نارسائیِ طبع کا اقرار کیا اور پھر درخواست کی۔ انہوں نے پھر انکار کیا۔ آخر ان لوگوں نے گراں خاطر ہو کر کہا کہ حضرت انوری و خاقانی کا کلام سمجھتے ہیں۔ آپ کا ارشاد کیوں نہ سمجھیں گے۔

میر صاحب نے کہا کہ یہ درست ہے۔ مگر ان کی شرحیں، مصطلحات اور فرہنگیں موجود ہیں اور میرے کلام کے لیے فقط محاورۂ اہلِ اردو ہے، یا جامع مسجد کی سیڑھیاں اور اس سے آپ محروم۔ یہ کہہ کر ایک شعر پڑھا:

عشق برے ہی خیال پڑا ہے، چین گیا آرام گیا
دل کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا شام گیا

اور کہا آپ بموجب اپنی کتابوں کے کہیں گے کہ خیال کی ’ی‘ کو ظاہر کرو اور پھر یہ کہیں گے کہ ’ی‘ تقطیع میں گرتی ہے۔ مگریہاں اس کے سوا جواب نہیں کہ محاورہ یہی ہے۔‘‘

(میر: صبا در بدر از علی سردار جعفری سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں