The news is by your side.

Advertisement

میر عثمان علی خان کی فیاضی اور علم پروری

سَرزمینِ دکن پر جامعہ عثمانیہ کا قیام اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خان کی فیاضی کا اظہار ہے۔ انھوں نے ایک مقامی زبان کی ترقی و ترویج میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ ان ہی کے لیے مخصوص ہے اور آج وہی زبان ذریعہ تعلیم بنی ہوئی ہے۔

انھوں نے ترجمے کا شعبہ قائم کیا جہاں اس قدر وسیع کام ہوا کہ دنیا کی ہر زبان کی اصطلاحات کا اردو ترجمہ ہوا جو غیر معمولی کام ہے۔

اعلیٰ حضرت سے متعلق بعض لوگوں نے منفی خیالات پیش کیے ہیں جن پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اس کی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آصف سابع کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی رہا کہ انھوں نے فضول خرچی سے ہر دم اجتناب کیا اور کفایت شعاری کو اپنا شعار بنا لیا۔

رکھ رکھاؤ، نفاست، تہذیب اور شائستگی کا وہ عملی نمونہ تھے۔ تعلیمی اداروں کی سرپرستی کرنے کو وہ فرض عین سمجھتے تھے۔

نظام آرتھوپیڈک اسپتال، جامعہ نظامیہ، حکمت اور طب کو فروغ دینے کے لیے عثمانیہ دوا خانہ، عثمانیہ یونیورسٹی، میڈیسن کی تعلیم کے انتظامات اور دوسرے شعبوں کا قیام ان کی زندگی کے اہم کارنامے ہیں اور آج حیدر آباد دکن میں تعلیم کی جو روشنی نظر آ رہی ہے وہ اعلٰی حضرت ہی کی مرہون منت ہے۔

قدیم حیدر آباد میں اکثر لوگ فارغ اوقات میں کتب خانے چلے جاتے تھے۔ آصفیہ لائبریری، سالار جنگ لائبریری میں نادر و نایاب کتابوں کا ذخیرہ آج بھی ہے۔

عثمانیہ یونیورسٹی کے کیمپس میں بھی ایک لائبریری اب بھی ہے جہاں بے شمار اہم کتابیں دست یاب ہیں۔

(حیدر آباد (دکن) کے آخری نظام میر عثمان علی خان کی سخاوت، فیاضی اور علم پروری کے حوالے سے ایک مضمون سے چند پارے)

Comments

یہ بھی پڑھیں