The news is by your side.

Advertisement

دلّی کے تاجدار اور رعایا کی عقیدت کا عالم

یہ جڑوں ہی کی مضبوطی تھی کہ دلّی کا سرسبز و شاداب چمن اگرچہ حوادثِ زمانہ کے ہاتھوں پامال ہو چکا تھا اور فلاکت کی بجلیوں اور بادِ مخالف کے جھونکوں سے سلطنتِ مغلیہ کی شوکت و اقتدار کے بڑے بڑے ٹہنے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے، پھر بھی کسی بڑی سے بڑی طاقت کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس برائے نام بادشاہ کو تخت سے اتار کر دلّی کو اپنی سلطنت میں شریک کر لے۔

مرہٹوں کا زور ہوا، پٹھانوں کا زور ہوا، جاٹوں کا زور ہوا، انگریزوں کا زور ہوا، مگر دلّی کا بادشاہ دلّی کا بادشاہ ہی رہا اور جب تک دلّی بالکل تباہ نہ ہوئی، اس وقت تک کوئی نہ کوئی تخت پر بیٹھنے والا نکلتا ہی رہا۔

دلّی کے ریذیڈنٹ نے بہت کچھ چاہا کہ بادشاہ کے اعزاز و احترام میں کمی کر دے، گورنر جنرل نے بڑی کوشش کی کہ شاہی خاندان کو قطب میں منتقل کر کے قلعے پر قبضہ کر لے، کورٹ آف ڈائریکٹرز نے بہت زور مارا کہ دلّی کی باشاہت کا خاتمہ کر دیا جائے، مگر بورڈ والے اس پر کسی طرح تیار نہ ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ دلّی کا بادشاہ کیا ہے اور اس کے اثرات کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے مباحثے ہوئے، نوجوانوں نے بہت کچھ جوش و خروش دکھایا، مگر انگلستان کے جہاندیدہ بڈھوں کے سامنے کچھ نہ چلی۔

جب بورڈ میں مسٹر ملکر نے کھڑے ہو کر کہا، عزیزو! میں پچاس سال ہندوستان میں رہا ہوں۔ میں وہاں کے رنگ سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں دلّی کا قلعہ کیا ہے۔ اس کی بنیاد اگر ایک طرف کابل تک گئی ہے تو دوسری طرف راس کماری تک۔ ایک جانب آسام تک ہے تو دوسری جانب کاٹھیا واڑ تک۔ ذرا قلعے کو ہاتھ لگایا تو وہ زلزلہ آئے گا کہ سارا ہندوستان ہل جائے گا۔ یہ برائے نام بادشاہت جس طرح چل رہی ہے اسی طرح چلنے دو۔‘‘

آخر بورڈ میں بڈھے جیتے اور جوان ہارے۔ دلّی کے بادشاہ کا اقتدار ضرور کم ہو گیا مگر جو عقیدت رعایا کو بادشاہ سے تھی، اس میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا اور جو محبت بادشاہ کو رعایا سے تھی وہ جیسی کی ویسی رہی۔ رعایا کی وہ کون سی خوشی تھی جس میں بادشاہ حصہ نہ لیتے ہوں اور بادشاہ کا وہ کون سا رنج تھا جس میں رعایا شریک نہ ہوتی ہو۔ بات یہ تھی کہ دونوں جانتے اور سمجھتے تھے کہ جو ہم ہیں، وہ یہ ہیں اور جو یہ ہیں، وہ ہم ہیں۔

شاہ عالمگیر ثانی کے قتل کے واقعے ہی پر نظر ڈال لو۔ دیکھو کہ ہندو مرد تو مرد عورتوں کو بھی بادشاہ سے کیسی محبت تھی اور خود بادشاہ اس محبت کی کیسی قدر کرتے تھے۔ عالمگیر ثانی کو فقیروں سے بڑی عقیدت تھی۔ جہاں سن پاتے کہ کوئی فقیر آیا ہوا ہے، اس کو بلاتے۔ نہ آتا تو خود جاتے۔ اس سے ملتے، بہت کچھ دیتے دلاتے اور فقیر نوازی کو توشہ آخرت سمجھتے۔

غازی الدین خاں اس زمانے میں دلّی کا وزیر تھا۔ خدا جانے اس کو بادشاہ سے کیوں دلی نفرت تھی۔ قلعے میں تو ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہ پڑی، دھوکے سے بادشاہ کو مارنے کا جال پھیلایا۔ قلعے میں مشہور کر دیا کہ پرانے کوٹلے میں ایک بزرگ آئے ہوئے ہیں۔ بڑے صاحبِ کرامات ہیں بڑے خدا رسیدہ ہیں، مگر نہ کہیں خود جاتے ہیں، نہ کسی کو آنے دیتے ہیں۔

ادھر بادشاہ کو ملنے کا شوق ہوا، ادھر لوگوں نے شاہ صاحب کی کرامتوں کے اور پُل باندھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن بادشاہ تن تنہا قلعے سے نکل کر کوٹلے پہنچے۔ ادھر ادھر کھنڈروں میں تلاش کی۔ یہاں تو پہلے ہی سے دشمن لگے ہوئے تھے۔ چار نمک حراموں نے ایک برج میں سے نکل کر بادشاہ کو شہید کر دیا اور لاش جمنا کی ریتی میں پھینک دی۔ خدا کی قدت دیکھو ادھر سے برہمنی رام کنور آ رہی تھی۔ اس نے جو لاش پڑی دیکھی تو ذرا ٹھنکی، بھاگنے کا ارادہ کیا، پھر ذرا غور کیا تو کیا دیکھتی ہے کہ ہیں، یہ تو بادشاہ سلامت کی لاش ہے۔ رات بھر اس بے کس شہید کا سَر زانو پر لیے بیٹھی روتی رہی۔

صبح جمنا جی کے اشنان کو لوگ آئے۔ انہوں نے بھی لاش کو دیکھ کر پہچانا۔ تمام شہر میں کھلبلی پڑ گئی۔ اس بے کس شہید کی لاش دفن ہوئی۔

شاہ عالم ثانی بادشاہ ہوئے۔ انہوں نے رام کنور کو بلایا۔ بہت کچھ انعام و اکرام دیا اور اس برہمنی کو اپنی منہ بولی بہن بنا لیا۔ تھوڑے دنوں میں سلونوں کا تہوار آیا۔ بھائی کے لیے بہن موتیوں کی راکھی لے کر پہنچی۔ بادشاہ نے خوشی خوشی راکھی بندھوائی، بہن کو جوڑا دیا، اس کے رشتہ داروں کو خلعت دیے۔ لیجیے راکھی بندھن کی رسم، قلعے کی رسموں میں شریک ہو گئی۔ جب تک قلعہ آباد رہا، اس برہمنی کے خاندان اور قلعے والوں میں بھائی چارہ رہا۔

(مرزا فرحت اللہ بیگ کی وجہِ شہرت ان کی ظرافت نگاری ہے، پیشِ‌ نظر پارہ اسی انشا پرداز اور صاحبِ اسلوب ادیب کے مضمون “بہادر شاہ اور پھول والوں کی سیر” سے لیا گیا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں