spot_img

تازہ ترین

شہباز شریف پاکستان کے 24 ویں وزیراعظم منتخب

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے...

وزارت عظمیٰ کا تاج کس کے سر سجے گا؟ فیصلہ آج ہوگا

اسلام آباد: نومنتخب قومی اسمبلی آج کے خصوصی اجلاس...

وزیراعظم کی تقریب حلف برداری پیر کو منعقد کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کی تقریب پیر کو...

مرزا غالب کو کنوؤں کا غم

"غالبؔ کے خطوط میں جہاں جہاں غدر کا ذکر ضمناً آیا تھا، میں نے پوری تلاش و محنت سے اس کو الگ کر لیا اور ایسے طریقے سے چھانٹا کہ روزنامچہ کی عبارت معلوم ہونے لگی۔”

پیشِ نظر سطور خواجہ حسن نظامی کے قلم سے نکلی ہیں جو اردو کے صاحبِ اسلوب ادیب اور انشا پرداز تھے۔ اردو صحافت میں ان کا بڑا نام تھا۔ متعدد قابلِ‌ ذکر اخبار اور جرائد ان کی سرپرستی اور ادارت میں شائع ہوئے۔ اردو ادب کی تاریخ میں بتاتی ہے کہ خواجہ حسن نظامی ہی تھے جنھوں نے روزنامچہ کو باقاعدہ صنف کی حیثیت دی۔ شخصی خاکے تحریر کیے۔ وہ ایک مؤرخ بھی تھے۔ اور 1857ء کے انقلاب پر ان کی گہری نظر تھی۔ اس ضمن میں ان کی تصنیف کردہ کتابیں تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ اور مستند دستاویز ہیں۔

یہاں‌ ہم مرزا غالب کی زبانی غدر اور اس کے بعد بالخصوص دلّی کے حالات اور ویرانی کا جو احوال پڑھنے جارہے ہیں، اسے خواجہ حسن نظامی نے غالب کا روزنامچۂ غدر کے عنوان سے شایع کروایا تھا۔ خواجہ حسن نظامی اس کا پس منظر کچھ اس طرح‌ بیان کرتے ہیں، "غالبؔ کے مکتوباتِ مطبوعہ و غیر مطبوعہ میں غدر کی کیفیت ایسی دبی ہوئی پڑی تھی کہ کوئی شخص اس کی خوبی و اہمیت کو محسوس نہ کر سکتا تھا اور خطوں کے ذیل میں ان عبارتوں کو بھی بے توجہی سے پڑھ لیا جاتا تھا۔ میں نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اردو زبان میں غدر دہلی کی یہ لا ثانی تاریخ جو موتیوں سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے، اس طرح دبی ہوئی نہ پڑی رہے، اس لیے اس کو علیحدہ کرنا شروع کیا اور کہیں کہیں اپنے حاشیے بھی لکھے تاکہ آج کل کے لوگوں کو دہلی کی بعض مقامی باتوں سے واقفیت ہو جائے اور جس چیز کا مطلب سمجھ میں نہ آئے، حاشیہ کی مدد سے سمجھ لیں۔”

‘غالب کو کنوؤں کا غم’ کے عنوان سے خواجہ حسن نظامی نے غالب کی زبانی دہلی کے حالات اور ان کی کیفیت کو بھی نقل کیا ہے۔ یہ پارہ آپ کی دل چسپی کے لیے پیش ہے:

"اب اہلِ دہلی ہندو ہیں یا اہلِ حرفہ ہیں یا خاکی ہیں یا پنجابی ہیں یا گورے ہیں۔ لکھنؤ کی آبادی میں کچھ فرق نہیں آیا۔ ریاست تو جاتی رہی۔ باقی ہر فن کے کامل لوگ موجود ہیں۔ خس کی ٹٹی، پُروا ہوا اب کہاں؟ لطف تو وہ اسی مکان میں تھا۔ اب میر خیراتی کی حویلی میں وہ چھت اور سمت بدلی ہوئی ہے۔ بہرحال میگزرد۔

مصیبتِ عظیم یہ ہے کہ قاری کا کنواں بند ہو گیا۔ لال ڈگی کے کنوئیں یک قلم کھاری ہو گئے۔ خیر کھاری ہی پانی پیتے۔ گرم پانی نکلتا ہے۔ پرسوں میں سوار ہو کر کنوؤں کا حال دریافت کرنے گیا تھا۔ مسجد جامع سے راج گھاٹ دروازہ تک بے مبالغہ ایک صحرا لق و دق ہے۔ اینٹوں کے ڈھیر جو پڑے ہیں، وہ اگر اٹھ جائیں تو ہُو کا مقام ہو جائے۔ مرزا گوہر کے باغیچہ کے اس جانب کوکنی بانس نشیب میں تھا۔ اب وہ باغیچہ کے صحن کے برابر ہوگیا۔ یہاں تک کہ راج گھاٹ کا دروازہ بند ہوگیا۔ فصیل کے کنگورے کھلے رہتے ہیں۔ باقی سب اٹ گیا۔

آہنی سڑک کے واسطے کلکتہ دروازہ سے کابلی دروازہ تک میدان ہوگیا۔ پنجابی کٹرہ، دھوبی واڑہ، رام جی گنج، سعادت خاں کا کٹرہ۔ جرنیل کی بی بی کی حویلی، رام جی داس گودام والے کے مکانات، صاحب رام کا باغ اور حویلی ان میں سے کسی کا پتہ نہیں ملتا۔ قصہ مختصر شہر صحرا ہو گیا تھا، اب جو کنوئیں جاتے رہے اور پانی گوہر نایاب ہو گیا تو یہ صحرا صحرائے کربلا ہو جائے گا۔ اللہ اللہ دلّی والے اب تک یہاں کی زبان کو اچھا کہے جاتے ہیں۔ واہ رے حسنِ اعتقاد۔ اردو بازار نہ رہا اردو کہاں۔ دلّی کہاں۔ واللہ اب شہر نہیں ہے کیمپ ہے۔ چھاؤنی ہے۔ نہ قلعہ، نہ شہر، نہ بازار، نہ نہر۔”

غالب کے خط سے یہ ٹکڑا نقل کرنے کے بعد خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں کہ اس عبارت میں غالبؔ نے دہلی کی ان شاندار عمارات کی بربادی کا نقشہ کھینچا ہے جن میں سے اکثر کے نام سے بھی اب دہلی والے واقف نہیں۔ اور میں بھی نہیں بتا سکتا کہ وہ کہاں تھیں۔

معلوم ہوتا ہے غالبؔ کو سب سے زیادہ کنوؤں کے بند کر دینے کا صدمہ ہے۔ وہ یہ سن کر کہ کنوئیں بند کیے جارہے ہیں، خود گھر سے نکلے تاکہ اپنی آنکھ سے دیکھیں۔ حالانکہ ان کا گھر سے نکلنا آج کل کی طرح کوئی معمولی بات نہ تھی۔ مشرق والے خصوصاً ہندوستان اور دہلی والے کنوؤں کے پانی کو بہت پسند کرتے ہیں اور ان کو نلوں کے پانی سے کسی قسم کی محبت نہیں ہے۔

حضرت اکبر الہ آبادی (مرحوم) بھی ایک جگہ لکھتے ہیں۔
حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا
پانی پینا پڑا ہے پائپ کا
پیٹ چلتا ہے، آنکھ آئی ہے
کنگ جاج کی دہائی ہے

انگریزوں نے حفظِ صحت کے خیال سے کنوئیں بند کیے تھے کہ ان کا پانی جلد خراب ہو جاتا ہے، مگر اہلِ مشرق اپنی پرانی عادات کے خلاف کسی مصحلت کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔

تحریر کے شروع میں غالبؔ نے دہلی کی آبادی کے بارے میں سچ لکھا ہے کہ غدر کے بعد ایسی جماعتیں وہاں آکر آباد ہوگئی تھیں جن کو زبان اور تہذیب و علم سے کچھ سروکار نہ تھا، اس لیے آج کل دہلی کی بگڑی ہوئی زبان پر اعتراض کرنا بھی فضول ہے کہ یہ زبان اہلِ دہلی کی نہیں ہے۔ وہ تو پھانسی پاگئے اور جو لوگ یہ زبان بولتے ہیں، وہ دہلی والے نہیں ہیں، پردیسی ہیں۔

Comments

- Advertisement -