The news is by your side.

Advertisement

جب غالب نے “استادی” دکھائی!

مرزا غالب کے ایک چہیتے شاگر میر مہدی مجروح تھے۔

غالب انھیں بے حد عزیز رکھتے تھے اور اپنا فرزند کہتے تھے۔

ایک روز میر مہدی مجروحؔ اپنے استاد اور محسن مرزا غالب کے کمرے میں‌ داخل ہوئے تو دیکھا کہ استاد صاحب پلنگ پر پڑے کراہ رہے ہیں۔ مجروح‌ ان کے پاؤں دابنے بیٹھ گئے۔

مرزا صاحب نے کہا، بھئی تُو سید زادہ ہے، اس طرح‌ مجھے کیوں گناہ گار کرتا ہے؟

میر مہدی مجروح کے دل میں‌ جانے کیا آئی کہ بولے، آپ کو ایسا ہی خیال ہے تو پیر دابنے کی اجرت دے دیجیے گا۔

اس پر استاد نے کہا، ہاں اس میں مضائقہ نہیں۔

مجروح‌ پیر داب کر اٹھے تو ازراہِ تفنن مرزا صاحب سے اجرت طلب کی۔

سچ ہے استاد تو استاد ہی ہوتا ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے شاگرد کی بات سنی اور ان کی طرف دیکھ کر بولے۔

بھیا کیسی اجرت؟ تم نے میرے پاؤں دابے، میں نے تمہارے پیسے دابے۔ یوں‌ حساب برابر ہوا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں