این چیپل جیسے کرکٹر کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتی، مصباح -
The news is by your side.

Advertisement

این چیپل جیسے کرکٹر کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتی، مصباح

لاہور : پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے سابق آسٹریلوی کپتان این چیپل کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیپل کو کرکٹ کا وسیع تجربہ ہے اور این چیپل جیسے کرکٹر کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتی۔

آسٹریلیا کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریزمیں وائٹ واش ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم اور ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کو تنقید کا سامنا ہے ، وائٹ واش کے بعد سابق آسٹریلوی کپتان این چیپل نے مصباح الحق پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو اسے بلانا چھوڑ دیں۔

مصباح الحق نے این چیپل کو جواب دینے کیلئے کرکٹ آسٹریلیا کی ویب سائیٹ پر کالم لکھ دیا، انکا کہنا تھا کہ چیپل کو کرکٹ کا وسیع تجربہ ہے۔ ان کے اس بیان کی کوئی تک نہیں بنتی، ان جیسے کیلیبر کے کھلاڑی کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔

کپتان مصباح الحق نے سابق آسٹریلوی کپتان ای این چیپل کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور فضول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم سری لنکا کی نوجوان ٹیم سے وائٹ واش ہو کر جا چکی ہے وہ بھارت میں ہارچکی ہے وہ پاکستان سے متحدہ عرب امارات میں وائٹ واش ہو چکی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے ایشیا میں نہیں آنا چاہیے؟

مصباح الحق نے کہا کہ میلبرن ٹیسٹ میں شکست کے بعد وہ بہت زیادہ مایوس تھے کیونکہ انھوں نے جو اہداف مقرر کیے تھے اور جو کچھ سوچ رکھا تھا ایسا نہیں ہوا، ایک ایسا میچ جس میں پاکستانی ٹیم حاوی دکھائی دے رہی تھی وہ ہار گئی۔

نہیں ہونا چاہیے کہ پچھلے چھ سال کی کامیابیوں کو بھلا دیا جائے اور یہ کہہ دیا جائے کہ چھ سال میں کچھ بھی اچھا نہیں ہوا اور یہی ہونا تھا۔


مزید پڑھیں : پاکستان ٹیم کو آئندہ آسٹریلیا نہ بلایا جائے، سابق آسٹریلوی کپتان


خیال رہے کہ پاکستان آسٹریلیا سے پھر تین صفر سے ہارا تو ای این چیپل پاکستان کے خلاف زہراگلنے سے باز نہ آئے، کرکٹ آسٹریلیا کو مشورہ دیتے ہوئے بولے اگر پاکستان کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو اسے بلانا چھوڑ دیں۔

چیپل نے کہا کہ پاکستان کی فیلڈنگ انتہائی خراب اور کپتانی غیر موثر تھی، پاکستان اپنی کارکردگی بہتر کرے یا پھر گھر بیٹھے۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کی میرے بس میں ہو تو مصباح کو فورا ہٹا دوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں