The news is by your side.

Advertisement

کوچنگ پر توجہ دینا چاہتا ہوں، کسی سے سے کوئی اختلاف نہیں، مصباح الحق

لاہور : قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا ہے کہ کوئی دباؤ نہیں تھا ٹیم پر فوکس کرنا چاہتا ہوں۔

یہ بات انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر بھی بی سی بی سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔

سابق ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اکثر بیرون ملک ہونے کے باعث دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اسی لیے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنا پڑا، کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔

پریس کانفرنس میں مصباح الحق کا کہنا تھا کہ زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز اور دورہ نیوزی لینڈ کی ٹیمیں میں منتخب کروں گا اور بحیثیت چیف سلیکٹر کی ذمہ داری 30 نومبر تک ادا کرتا رہوں گا۔ نئے چیف سلیکٹر کا انتخاب بورڈ کا استحقاق ہے، نیا چیف سلیکٹر جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے ذمہ داریاں سنبھالے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اب کوچنگ پر بھرپور توجہ دینا چاہتا ہوں اور اس حوالے سے بورڈ کو بھی آگاہ کردیا ہے، آج کل کی کوچنگ کے لئے فٹنس کی ضرورت ہے اور مجھ میں ابھی انرجی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہیڈ کوچ کے طور پر ہار اور جیت کا ذمہ دار ہوں گا، میری نظریں اگلے دو برس کی کمٹمنٹ پر ہیں، ہمارا سب سے بڑا ہدف تینوں فارمیٹس میں پاکستان کو نمبر ون ٹیم بنانا ہے۔

اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کا ایک سال بعد چیف سلیکٹر کے عہدے سے دستبردار ہونے کی وجہ پی سی بی کا نیا قانون ہے جس کے تحت ایک ساتھ دو عہدے نہیں رکھے جاسکتے۔

بحیثیت چیف سلیکٹر مصباح الحق نے نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کیے لیکن بد قسمتی سے اس کے نتائج اچھے نہیں رہے، مصباح الحق نے پہلی سیریز میں عمراکمل اور احمد شہزاد کو سری لنکا کے خلاف کھیلنے کا موقع دیا۔

آسٹریلیا جیسے مشکل دورے پر بھی نوجوانوں کو آزمایا، ٹی ٹوئنٹی میں خوشدل شاہ، موسیٰ خان، احسان علی، حارث رؤف اورحیدر علی کو ڈیبیو کرایا۔

ٹیسٹ میں عثمان شنواری، موسیٰ اور نسیم شاہ آزمائے، ان کی کوچنگ میں قومی ٹیم نے 8 ٹیسٹ سیریز کھیلیں، جن میں دو جیتے تین ہارے اور تین ہی ڈرا ہوئے جبکہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں قومی ٹیم پہلے سے چوتھے نمبر پر آگئی، بارہ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے، تین جیتے، چھ ہارے اور تین بے نتیجہ رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں