The news is by your side.

Advertisement

روایت کے برعکس مقابلہ حسن، خاتون سائنس دان فاتح قرار

نیویارک: امریکا میں ہونے والا مقابلہ حسن روایت کے برخلاف ہوا جس میں تعلیم اور خدمات کی بنیاد پر امریکی سائنس دان کو فاتح قرار دیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امسال ہونے والا مس امریکا کا مقابلہ روایت سے ہٹ کر تھا کیونکہ ججز اور جیوری نے خوبصورتی کی نہیں بلکہ تعلیم اور خدمات کی بنیاد پر آئندہ سال کی حسینہ کا انتخاب کیا۔

مقابلہ حسن میں امریکی ریاست ورجینیا کی بائیو کیمسٹ ’کیمیل شریئر‘ کو فاتح قرار دیا گیا،فائنل راؤنڈ میں ججز نے مس امریکا 2020 کی کامیاب امیدوار کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سائنسی علم کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے کی وجہ سے اعزاز دیا گیا۔

کیمیل شریئر فائنل میں کیپ کوٹ پہن کر اسٹیج پر آئیں اور انہوں نے ہائیڈروجن آکسائیڈ کے تجربے سے متعلق دلچسپ گفتگو کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میں ویمن آف سائنسس کی حسینہ بن کر آئندہ سال امریکا کے حوالے سے دنیا بھر میں پائے جانے والے غلط شکوک و شبہات کو ختم کرنا چاہتی ہوں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں ملکہ حسن نہیں بلکہ تنظیم کی نمائندہ اور ایک عام لڑکی بھی ہوں‘۔

رپورٹ کے مطابق مس امریکا کے لیے کولمبیا کی پچاس ریاستوں سے 51 خواتین امیدوار نے حصہ لیا، فاتح امیدوار کو تاج کے ساتھ پچاس ہزار ڈالر ز بطور انعام دیے گئے، اس رقم کو عوامی آگاہی کے لیے استعمال کیے جانا ہے۔

مس امریکا آرگنائزیشن کی صدر اور سی ای او ریجائینا ہوپر کا کہنا تھا کہ ’’سائنس دان کو مس امریکا بنانے کا اقدام اس لیے ضروری تھا کہ ہم سب اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم اس نسل کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔

شریئر ورجینیا ٹیک یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں، انہوں نے بائیو کیمسٹری اور سسٹمز بائیولوجی میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی جس کے بعد اب وہ فارمیسی میں ڈگری لینے لے لیے مزید پڑھ رہی ہیں، شریئر کی آبائی ریاست پنسلوانیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں