The news is by your side.

Advertisement

جب داڑھی، ٹوپی اور کرتا شلوار بھارتی شہری کا جرم بن گیا

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فسادات کے دوران ہندو انتہا پسندوں کے مشتعل ہجوم کے تشدد کا شکار ہونے والے زبیر کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

زبیر کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بے حد وائرل ہوئی تھی جس میں وہ مشتعل ہجوم کے نرغے میں گھرے زمین پر جھکے ہوئے ہیں، ان کا سفید لباس خون کے چھینٹوں سے تر ہے اور وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ دا وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے زبیر نے اس ہولناک دن کی یادیں تازہ کیں، چاند باغ کے علاقے کے رہائشی زبیر اس دن سالانہ اجتماع کی دعا میں شرکت کے لیے نکلے تھے۔

وہاں سے واپسی میں راستے میـں انہیں علم ہوا کہ دہلی کے علاقے کھجوری گلی میں حملہ ہوا ہے، وہ اپنا راستہ بدل کر اپنے گھر کی طرف جانے لگے۔ وہ بتاتے ہیں کہ راستے میں پڑنے والے ایک سب وے میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ آپ نیچے مت جاؤ، وہاں خطرہ ہوسکتا ہے، دوسری طرف سے جاؤ۔

زبیر راستہ بدل کر جانے لگے، آگے جا کر انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ بہت ہجوم تھا اور شدید پتھراؤ ہورہا تھا، ’میں وہاں سے جانے لگا تو ہجوم نے مجھے دیکھ لیا، ایک شخص میری طرف سلاخیں لے کر بڑھا تو میں نے اس سے کہا کہ میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے‘۔

مزید پڑھیں: مشتعل ہجوم نے فوجی اہلکار کو بھی نہ بخشا، گھر کو آگ لگا دی

زبیر کے مطابق ان لوگوں نے ان کی بات کو نظر انداز کیا اور سلاخ پکڑے ہوئے ایک شخص نے، وہ ان کے سر پر دے ماری، اس کے بعد 20، 25 افراد نے ان پر  تشدد شروع کردیا۔ ’ان کے ہاتھ میں تلوار، سلاخیں اور ڈنڈے تھے اور وہ مجھے مارتے رہے، انہوں نے تلوار بھی میرے سر پر ماری لیکن خوش قسمتی سے وہ صحیح طریقے سے نہیں لگی‘۔

زبیر کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جے شری رام اور مارو ملا کو نعرے لگا رہے ہیں۔ ’جب وہ مار مار کر تھک گئے اور دور ہٹ گئے تو میں نے کچھ آوازیں سنیں جو مجھے اسپتال لے جانے کا کہہ رہی تھیں‘۔

’انہوں نے آپس میں طے کیا کہ ان میں سے کچھ مجھے پتھراؤ سے بچائیں گے اور باقی افراد وہاں سے مجھے دور لے کر جائیں گے ، اس کے بعد مجھے ایمبولینس میں ڈالا گیا، بعد میں میری آنکھ اسپتال میں کھلی‘۔

زبیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرتا شلوار اور ٹوپی پہنی تھی اور ان کی داڑھی ان کے مسلمان ہونے کی شناخت تھی اور اسی وجہ سے ہجوم نے ان پر تشدد کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی عمر 37 سال ہے اور زندگی میں کبھی ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے اس طرح انہیں نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان کا جسم زخموں سے چور ہے اور سر پر 20 سے 25 ٹانکے لگے ہیں۔ 6 دن بعد بھی وہ بغیر سہارے کے چل پھر نہیں پاتے۔

زبیر کا کہنا ہے کہ میں ڈر کر بھاگنے والا نہیں ہوں، میں وہیں رہوں گا جہاں ہمیشہ سے رہتا آیا ہوں۔ ’ڈر اس کے دل میں ہوتا ہے جو غلط راستے پر ہو، میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور میں بالکل درست راستے پر ہوں‘۔

یاد رہے کہ نئی دہلی میں گزشتہ اتوار سے شروع ہونے والے مسلم کش فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے جبکہ 48 گھنٹے کے دوران 3 مساجد، ایک مزار، اور مسلمانوں کے بے شمار گھر اور گاڑیاں جلا دی گئی ہیں۔

مودی سرکار نے متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگا دیا ہے جبکہ نماز جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد رہی۔ متاثرہ علاقوں میں تجارتی مراکز بند ہیں، مسلمانوں کے خاکستر گھر اور تباہ کاروبار ان پر گزری قیامت کا پتہ دے رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں