ہفتہ, جولائی 13, 2024
اشتہار

تو پھر ایک سیلفی ہو جائے!

اشتہار

حیرت انگیز

ڈیجیٹل میڈیا کی بدولت ایک طرف تو دنیا میں بڑی تبدیلی اور ترقی ممکن ہوئی ہے اور انسان کے کئی کام آسان ہوگئے ہیں، مگر اسی ڈیجیٹل میڈیا نے انسان کو ایک خبط میں بھی مبتلا کر دیا ہے اور اسے تنہائی اور اپنے ماحول سے بیزاری کا تحفہ بھی دیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی بات کریں تو یہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشروں کو قریب لاتے ہوئے انھیں اجتماعی اور انفرادی مسائل پر تبادلۂ خیال کا موقع دے رہی ہیں، لیکن سوشل میڈیا نے لوگوں میں حسد اور رقابت جیسے جذبات بھی پیدا کیے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خود نمائی بھی اسی ٹیکنالوجی کی دین ہے۔

ہم کہیں سیر پر جانے کا منصوبہ بنا رہے ہوں یا کسی تقریب میں جانے کا ارادہ ہو وہاں اپنوں کے ساتھ، دوستوں اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کرنے سے زیادہ سیلفی لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ ہماری گفتگو بھی بار بار سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کی طرف نکل جاتی ہے، یا سوشل میڈیا پر وائرل موضوع پر بحث ہونے لگتی ہے۔ سیلفی لینے کا رحجان تو خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈیلی ٹیلیگراف نے لکھا کہ 2015ء میں سیلفی کی وجہ سے اتنی اموات ہوئیں جتنی شاید شارک کے حملوں میں بھی نہ ہوتیں۔ امریکا اور بھارتی انسٹیٹیوٹ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مارچ 2014ء سے 2016ء تک پوری دنیا میں سیلفی کی وجہ سے ہونے والی اموات ایک سو ستائیس تھیں جن میں صرف بھارت میں چھہتر اموات ہوئیں۔ گویا سیفلی لینے کے دوران اموات میں بھارت پہلے نمبر پر ہے۔

- Advertisement -

پہلی سیلفی کس نے بنائی یہ کہنا تو بہت مشکل ہے لیکن 2013ء تک لفظ سیلفی اتنا عام ہو گیا تھا کہ آکسفورڈ ڈکشنری نے اس لفظ کو سال کا مشہور ترین لفظ قرار دے دیا۔ اب تو سیلفی فون بھی عام مل رہے ہیں جن میں ایک کیمرے کی جگہ دو دو، تین تین کیمرے موجود ہیں تاکہ آپ شان دار تصویریں بنا سکیں۔

سلیفی کا شوق نوجوانوں سے لے کر ادھیڑ عمر کے لوگوں کو بھی ہے۔ بسترِ مرگ پر پڑے ہوئے لوگوں، حتیٰ کہ جنازوں پر بھی لوگ سیلفی لینے سے باز نہیں آتے۔ سیلفی لیتے ہوئے یہ دھیان نہیں رکھا جاتا کہ ذرا سی غفلت، کوتاہی اور گرد و پیش سے پَل بھر کو بے خبر ہونا زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ کبھی ریل کی پٹری، کبھی نہر کے کنارے، کبھی کسی پُل کے اوپر غرض کسی بھی جگہ سیلفی کے شوقین افراد اپنا کام کرجاتے ہیں۔ تفریحی اور عام مقامات تو ایک طرف لوگ مقدس مقامات پر بھی نہیں باز آتے اور دورانِ زیارت و عبادت سفیلیاں کھینچ کر دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

موبائل کے کیمرے سے تصویر بنانا آسان تو ہے، لیکن سیلفی کا یہ جنون مشہور و معروف شخصیات کے لیے مصیبت بن چکا ہے۔ لوگ کسی مشہور شخصیت کے ساتھ سیلفی بنوائے بغیر نہیں‌ رہ سکتے۔ اب چاہے یہ شخصیات اپنے اُن پرستاروں یا چاہنے والوں کو کتنا ہی ٹالنے کی کوشش کریں اور منع بھی کر لیں، مگر وہ ان کی جان نہیں چھوڑتے۔ ایک طرف ہم بڑے بڑے شاپنگ مالز، مہنگے ریستوراں اور تفریحی مقامات پر اپنی سیلفیاں لینے کے خبط میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اکثر اس سے خود نمائی مقصود ہوتی ہے جب کہ دوسری طرف ہم لوگ مشہور شخصیات کے ساتھ تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور دوسروں‌ کو مرعوب کرنے کی کوشش کی کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اپنی زندگی کے مختلف لمحات کو محفوظ کرنا اور یادگار بنانا برا نہیں اور یہ اب ایک عام بات ہے، مگر یہاں ہم بات اس رویے اور طرزِ‌فکر کی کررہے ہیں جس میں ایک طرف تو اکثر سلیفی کے شوقین اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ سب محض نمائش، دکھاوا اور اکثر دوسروں پر اپنا رعب جمانے یا اپنی برتری جتانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑے سے بڑے کارنامے کی سیلفی بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا لوگوں کا معمول بن گیا ہے۔ میں یہ سوچتی ہوں کہ اس ٹیکنالوجی کے کتنے ہی فائدے ہیں اور یہ یقیناً ہمارے لیے بہت سے کاموں کو آسان اور سہل بنا رہی ہے، لیکن بدقسمتی سے شعور اور آگاہی کا فقدان، کج فہمی اور ہماری ناسمجھی اس ٹیکنالوجی کو ہمارے لیے وبال بنارہی ہے بلکہ معاشرہ صبر، برداشت، قناعت سے محروم اور حسد و رقابت کے جذبات سے بھرتا جا رہا ہے۔ کئی مواقع ایسے بھی ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کے سیلفی یا ویڈیو بنانے کی وجہ سے ہماری پرائیویسی بھی متاثر ہورہی ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ خوبصورتی کیمرے کی آنکھ میں ہوتی تھی، فوٹو گرافر کے ایک کلک کی مہارت میں ہوتی تھی اور ہم اپنے بچپن میں کسی سیر گاہ میں جاتے ہوئے کیمرے میں ریل ڈلوانے کی جو خوشی محسوس کرتے تھے، اس کا مقابلہ یہ سیلفی نہیں کرسکتی۔ وہ خوشی ہی الگ ہوتی تھی کہ ہم خوب پوز بنائیں گے، پکنک انجوائے کریں گے۔ وہ خوشی اب ماضی بن گئی ہے اور اب سیلفی کی نمائش کے چکر میں ہم اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ نہ ہمیں اپنی جان کی فکر ہے اور نہ ہی امیج کی۔ حالانکہ یہی دونوں چیزیں ہمارے لیے بہت اہم ہیں اور ان کی قدر کی جانی چاہیے۔

کبھی موقع ملے تو اس مصنوعی دنیا سے تھوڑی دیر کے لیے باہر نکل کر زندگی کا حقیقی معنوں میں ضرور لطف اٹھائیے گا۔

(یہ تحریر/ بلاگ مصنّف کی ذاتی رائے، خیالات اور مشاہدے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)

Comments

اہم ترین

راضیہ سید
راضیہ سید
راضیہ سید پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری کی حامل ہیں اور ایک دہائی سے زائدعرصے سے شعبہ صحافت سے بطور رپورٹر ، پروڈیوسر اور محقق وابستہ ہیں ، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور بلاگز تحریر کرتی ہیں

مزید خبریں