The news is by your side.

Advertisement

قندیل بلوچ قتل کیس میں والدین کی بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد

ملتان: قندیل بلوچ قتل کیس میں عدالت نے والدین کی بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 اگست تک کے لیے ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت میں سماعت کے دوران قندیل بلوچ کے والدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیٹی قندیل بلوچ کے قتل کیس میں صرف اپنے بیٹوں کو معاف کیا ہے جبکہ باقی ملزمان کو معافی نہیں دی ہے۔

عدالت نے والدین کی بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی، عدالت کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کیس کا فیصلہ گواہوں کی شہادتوں کے بعد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں گزشتہ روز اس وقت نیا موڑ سامنے آیا تھا جب قندیل کے والدین نے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا تھا۔

قتل کیس میں قندیل کے والد عظیم بلوچ نے اپنے دونوں سگے بیٹوں مرکزی ملزمان وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کرکے عدالت میں معافی کا بیان حلفی جمع کرایا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ ان کے بیٹوں کو باعزت بری کردے۔

عدالت میں جمع کرایے گئے بیان حلفی کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل میں غیرت کی کہانی بنائی گئی تھی جو حقائق کے منافی ہے۔

قندیل کے والد کا بیان حلفی میں کہنا تھا کہ بیٹی کے قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 میں ہوئی، غیرت کے نام پر قتل کے قانون 311 میں ترمیم بعد میں ہوئی ہے لہٰذا اس کیس پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ 345 کے تحت ملزمان کو بری کیا جائے۔

یاد رہے کہ جب قندیل بلوچ کو تین سال قبل قتل کیا گیا تھا تو اس وقت مقتولہ کے والد اور مقدمے کے مدعی محمد عظیم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ قطعی طور پر ملزمان کو معاف نہیں کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں