site
stats
اہم ترین

عدالت کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم

لاہور: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ کو شائع کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مرنے والوں کے لواحقین اور متاثرین کی جانب سے تفتیشی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی درخواست پر 2 روز قبل سماعت کی گئی تھی جس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس زیر سماعت ہے، تفتیشی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جارہی۔ عدالت جوڈیشل انکوائری رپورٹ شائع کرنے کا حکم دے۔

مزید پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کی درخواست

درخواست میں حکومت پنجاب کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ منظر عام پر آنے سے ذمہ داروں کا تعین ہوگا۔ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لا کر مقتولین کے ورثا کو جلد انصاف کی فراہمی کا عمل ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ سماعت پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا کوئی فائدہ نہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ متاثرین جاننا چاہتے تو آپ انہیں کیسے روک سکتے ہیں؟ لواحقین کو قاتلوں کا پتہ چلناچاہیئے، رپورٹ چھپا کر فائدہ کسے دینا چاہتے ہیں۔

تاہم آج محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے حکومت کو رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ 3 سال قبل لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے منہاج القرآن مرکز کے ارد گرد سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر آپریشن کیا گیا جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان مزاحمت ہوئی۔

اس دوران پولیس کے شدید لاٹھی چارج کے سبب 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top