The news is by your side.

Advertisement

ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ: پنجاب حکومت کا وکیل 24 نومبرکو طلب

لاہور: ہائی کورٹ نےسانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈ یشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کے عدالتی فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل کی سماعت چوبیس نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے وکیل خواجہ حارث کوحتمی دلائل کے لئے طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز بدھ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اپیل کی سماعت کی ۔

سانحہ ماڈل ٹاون کے متاثرین کے وکلاء اظہر صدیق اور خواجہ طارق رحیم نے دلائل مکمل کر لیے جبکہ ادارہ منہاج القرآن کےوکیل علی ظفر پہلے ہی دلائل مکمل کر چکے ہیں ۔

ہائی کورٹ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کا بند کمرے میں جائزہ لے گی*

متاثرین کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ عوامی دستاویز ہیں جسے منظر عام پر لایا جائے ۔ حکومت جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہ لا کر ملزموں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے جبکہ سانحہ ماڈل ٹاون کے شہداء کے لواحقین کو یہی نہیں پتا کہ ان کے پیاروں کا قاتل کون ہے ۔

متاثرین کے وکلا کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے رپورٹ اور انکوائری کمیشن کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے جوڈیشل انکوائری کرنے والےجسٹس علی باقر نجفی کے خلاف توہین آمیز بیانات بھی دیے گئے‘ اس لیے حکومتی انٹرا کورٹ اپیل توہین عدالت کی بنیاد پر ہی خارج کر دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا انکوائری رپورٹ شائع نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔معلومات تک رسائی کا قانون موجود ہے‘ مگر انفارمیشن کمشنر موجود نہیں لہذا معلومات کس سے لی جائیں۔

متاثرین کے وکلاء کے اس بیان پر عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیسا کمیشن ہے جس کا کمشنر ہی موجود نہیں ہے۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت چوبیس نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے وکیل خواجہ حارث کوحتمی دلائل کے لئے طلب کرلیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں