The news is by your side.

Advertisement

مودی سرکار کی پسپائی، بھارت متنازع ایکٹ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور

نئی دہلی: مودی سرکار پسپائی کے بعد شہریت ترمیمی ایکٹ سے پیچھے ہٹنے لگی، بھارت نے شہریت ایکٹ کرونا کے باعث ملتوی کردیا۔

اے آروائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار شہریت ایکٹ ترمیمی بل سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے متنازع شہریت ایکٹ بل کرونا وائرس کے باعث ملتوی کردیا۔

مودی سرکار نے گزشتہ سال  اعلان کیا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کے لیے شہریوں کا نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز یعنی این آر سی کا عمل پورے ملک میں شروع کرے گی۔ این آر سی کا عمل ابھی تک صرف آسام میں شروع کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد بنگال سمیت کئی ریاستوں بالخصوص مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ  سٹیزن ایکٹ مسلمانوں کے خلاف مودی کی متعصبانہ کارروائی ہے، مذہب، کی بنیاد پر بھارت میں پہلی بار انسانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔

متنازع سٹیزن ایکٹ سے بھارت میں آباد مسلمانوں کو شہریت سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے، شاہین باغ دہلی میں مثبت سوچ والے بھارتیوں نے بل کے خلاف مظاہرے کیے۔

مزید پڑھیں: متنازع ایکٹ، بھارت میں احتجاج، مودی ہٹاؤ مہم شروع، 14 افراد ہلاک

سٹیزن ایکٹ کے دوران کیے جانے والے مظاہروں کے دوران 49 مسلمانوں کو تشدد کرنے شہید کیا گیا، مرنے والوں میں تین ہندو اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے جان و مال کو نقصان مسلح ہندو جتھوں نے پہنچایا، بی جے پی رہنماؤں نے انتہائی غیرذمہ داری کا ثبوت دیا، رہنماؤں کی وجہ سے ہندو آبادی مشتعل ہوئی اور مسلمانوں کو جانی نقصان پہنچایا۔

یاد رہے کہ کشمیریوں کو مودی نے لاک ڈاؤن میں رکھ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی، بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر امریکا، یو این، یورپی یونین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں