The news is by your side.

Advertisement

ناقص حکمت عملی سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے پر مودی کی معافیاں

نئی دہلی: کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بھارت کے سوا ارب سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی عوام سے معافی مانگنے لگے۔

ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں بغیر سوچے سمجھے اچانک لاک ڈاؤن کرنے پر عوام تلملا اٹھے اور ناقص حکمت عملی پر وزیراعظم نریندر مودی کو کوسنے لگے۔

چار گھنٹے سے بھی کم نوٹس پر ملک بھر میں شٹ ڈاؤن کے فیصلے پر نریندر مودی کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور عوامی ردعمل آنے کے بعد بھارتی وزیراعظم معافی مانگ کر لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نے عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث غیر متوقع طور پر تین ہفتوں کے طویل لاک ڈاؤن کا اعلان کر کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردی، ریلوے سمیت دیگر نقل حمل کے ذرائع بند ہونے سے لوگ ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ بے سروسامانی کے عالم میں پیدل طے کرنے پر مجبور ہیں اور آبائی علاقوں تک پہنچنے کے لیے بے یارومددگار اور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

ایسے میں بھارتی وزیراعظم نے عوام کا غصہ کم کرنے کے لیے معافیاں مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے سخت فیصلوں پر معذرت خواہ ہیں۔

ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے جیسے مشکل اور سخت اقدامات سے ہونے والے اثرات پر وہ معافی چاہتے ہیں، خصوصاً جب میں اپنے غریب بھائی بہنوں کو دیکھتا ہوں جو یقیناً یہی سوچتے ہوں گے کہ وزیراعظم نے ہمیں کس مشکل میں ڈال دیا ہے؟ انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، کوئی اور طریقہ نہیں تھا کہ وبا کو تیزی سے پھیلنے سے روکا جا سکے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں