The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے سعودی ولی عہد کی انتھک کوششیں

ریاض: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کرونا وائرس سے شہریوں کے بچاؤ کے لیے خصوصی کوشش کر رہے ہیںِ، ملک بھر کے مختلف شعبوں کو اس مشکل وقت میں ان کی خصوصی توجہ حاصل ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملک میں کوویڈ 19 کے آغاز سے ہی اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔

ولی عہد نے گزشتہ ماہ سینئیر سرکاری حکام کو بتایا کہ ہم خدا کی رضا کے ساتھ بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، یہ سعودی عرب کے فوجیوں اور عام شہریوں دونوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

ان کوششوں کی قابل محسوس عملی شکل اپریل میں اس وقت دیکھنے کو ملی جب مملکت کی نیشنل یونیفائیڈ پروکیورمنٹ کمپنی اور چین کی بیجنگ جینوم انسٹی ٹیوٹ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس سے مملکت ایک دن میں 60 ہزار تک ٹیسٹ کرنے کے قابل ہوئی۔

265 ملین ڈالر کے اس معاہدے کا مطلب ہے کہ چین سعودی عرب کو 9 ملین کرونا وائرس ٹیسٹ کٹس، 500 تکنیکی ماہرین اور 6 تجربہ گاہیں فراہم کرے گا۔ چین کے تکنیکی ماہرین سعودی عملے کو کوویڈ 19 کے ٹیسٹ کرنے کی تربیت بھی دیں گے۔

معاہدے کے تحت چین مملکت کو موبائل لیبارٹریز جنہیں ہوا بھر کے پھلایا جا سکتا ہے، فراہم کرے گا۔ ان لیبارٹریز کو کسی بھی کمرشل ہوائی جہاز سے عام سامان کی طرح ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کو اس وبائی مرض کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 170 بلین سعودی ریال سے زائد کے مالیاتی بھی پیکج فراہم کیے۔

ان پیکیجز سے اب تک 9 ہزار فیکٹریوں نے فائدہ اٹھایا جن میں سے 3 ہزار انتہائی ضروری خوراک اور دواؤں کی فراہمی کے لیے پوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں۔

سعودی عرب کے سب سے بڑے میڈیکل ماسک، گاؤن اور میڈیکل کٹس تیار کرنے والے کمپنی عنایہ نے ہر ماہ 10 ملین ماسک اور ہر ہفتے 8 لاکھ گاؤن تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

سینی ٹائزنگ لوشن بنانے والی مملکت کی سب سے بڑی صنعت کار ایوالون فارما نے بھی اپنی پیداوار میں روزانہ 50 ٹن اضافہ کیا ہے جو عام پیداوار کی شرح سے دوگنا ہے، یہ کمپنی جی سی سی اور مینا کے ریجن میں مصنوعات کو برآمد بھی کر رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں