The news is by your side.

Advertisement

رنگ گورا کرنے کی ’ کریم‘ کے استعمال سے خواتین کی اموات میں اضافہ

لندن: برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رنگ گورا کرنے کی کریم میں ایسے اجزا شامل ہیں جو آگ کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں اور اسی باعث خواتین کی اموات میں اضافہ بھی ہوا۔

برطانوی تحقیقاتی ادارے برائے ادویات اور ہیلتھ کیئر (ایم ایچ آر اے) نے رنگ گورا کرنے والی کریم سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے جس کی بنیاد پر ماہرین نے خواتین کو خبردار کیا۔

برطانیہ کے آگ بجھانے والے ادارے (فائربریگیڈ) اور فلاحی رضاکاروں کی مدد سے اعداد و شمار جمع کیے گئے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ رواں سال 50 سے زائد خواتین آگ سے جھلس کر ہلاک ہوئیں۔

مزید پڑھیں: رنگ گورا کرنے والی بلیچ کریمز خطرناک جلدی امراض کا موجب

ماہرین کے مطابق رنگ گورا کرنے کی کریم میں ایسے اجزا شامل کیے جاتے ہیں جو آگ کو بڑھاوا دینے اور اپنی جانب کھینچنے میں مدد کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کریم بنانے والی کمپنیاں اس حوالے سے کہیں بھی تنبیہ پیغام درج نہیں کرتیں، اس ضمن میں خواتین میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ واشنگ پاؤڈر (سرف) جن کی مدد سے گندے کپڑے دھوئے جاتے ہیں ان میں بھی ایسی اجزا شامل ہوتے ہیں جو آگ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رنگ گورا کرنے کی کریمز میں لال بیگوں کا استعمال

اسے بھی پڑھیں: گوری رنگت حاصل کرنے کا صدیوں قدیم گھریلو نسخہ

تحقیقاتی ماہرین نے رنگ گورا کرنے کی کریم کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ پروفیسر جیون رین کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت کو ایک خط ارسال کیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب تک تحفظات دور نہیں کیے جاتے تب تک ان کی فروخت بند کی جائے‘۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سردیوں میں خشکی دور کرنے کے لیے استعمال ہونے والی کریم میں بھی کچی اسی طرح کے اجزا شامل ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔

پروفیسر جون اسمتھ کا کہنا تھا کہ ’آگ لگنے کی صورت میں زیادہ تر خواتین کے جھلس کر مرنے کے واقعات اسی وجہ سے پیش آتے ہیں‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں