The news is by your side.

مونال ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ضلعی انتظامیہ نے مونال ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور ‏تجاوزات کے خلاف کیسز کی سماعت کے دوران مونال ریسٹورنٹ کو سیل کر کے ہوٹل خالی کرنے کا حکم سنایا۔

تحریری حکم نامہ جاری ہونے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے ریسٹورنٹ سیل کرنے کا نوٹس چسپاں کر دیا اور ‏عدالتی احکامات کی روشنی میں انتظامیہ نے مالک کو ہوٹل کا سامان اٹھانےکاحکم دے دیا۔

دوران سماعت چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی اداروں کو ہم نے تجاوزات سے روک دیا ہے ‏جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ نے تو کوئی تجاوز نہیں کیا؟ اگر ایسا ہے تو ادھر سے شروع ‏کریں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ غور کے بغیر اسلام آباد کے ماسٹرپلان میں ترمیم کی جاتی رہیں قانون جیسا بھی ‏ہو اس پر عمل درآمد ہونا ضروری ہے آج کابینہ کے سامنے بھی یہ پوائنٹ رکھا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے ادارے تجاوزات سے ہٹ جائیں توکسی کی بھی ہمت نہیں ہو گی، نیشنل ‏پارک کی زمین کی نشاندہی کون کرے گا؟ ریاست کی رٹ کیوں کمزور ہوئی ہے؟ عام آدمی تونیشنل پارک میں ‏گھس نہیں سکتا، یہ اشرافیہ کی وجہ سے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں