The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، 2 ماہ کے لیے شرح سود میں اضافے کا فیصلہ

کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا، آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اگلے دو ماہ کے لیے سود کی شرح میں اضافے کافیصلہ کر لیا۔ مرکزی بینک کی شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا، اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ بنیادی شرح سود 12.25 فی صد ہو گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی کے بعد 3 نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر فنڈ سہولت پر اتفاق کیا، اس پروگرام کا مقصد معاشی استحکام بحال کرنا ہے۔

بینک کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال 9 ماہ میں حکومتی قرض میں اضافہ دیکھا گیا، گزشتہ مانیٹری پالیسی سے روپے کی قدر میں 5.93 فی صد کمی ہو چکی، آج ڈالر 149 روپے 65 پیسے کی بلند سطح پر بند ہوا، ڈالر معاشی عوامل اور مارکیٹ کی طلب و رسد کے مطابق ہے۔

بینک نے کہا کہ مالی سال 2019 میں معاشی نمو سست ہونے کی توقع ہے، مالی سال 2020 میں معاشی نمو کسی قدر بڑھنے کی توقع ہے، رواں سال 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال اسی مدت سے 29 فی صد کم رہا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کی وجہ درآمدات میں کمی اور ترسیلات میں اضافہ ہے۔

مالی سال 2018 کے 9 ماہ میں تجارتی خسارہ 13.7 ارب ڈالر تھا، مالی سال 2019 میں تجارتی خسارہ 13.7 ارب ڈالر سے گھٹ کر 1 ارب ڈالر رہ گیا، یکم جولائی 2019 سے 10 مئی تک نجی شعبے کے قرض میں 9.4 فی صد اضافہ ہوا، مارچ 2019 میں مہنگائی کی شرح 9.4 فی صد، اپریل میں 8.8 فی صد رہی۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی اوسط شرح ابھی 7 فی صد ہے، گزشتہ سال اسی مدت میں مہنگائی کی شرح 3.8 فی صد تھی، پٹرولیم مصنوعات، اشیا کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی کی رفتار بڑھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں