The news is by your side.

منی لانڈرنگ ایکٹ سے متعلق تحریری فیصلہ جاری

لاہور : منی لانڈرنگ ایکٹ سے متعلق لاہورہائی کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ کے تحت بغیر کسی وجہ کے طلبی کے نوٹسز کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس شمس محمود مرزا نے50صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انکوئری یا درج مقدمے کے ثبوت، شواہد و دیگرریکارڈ فراہم کرنا لازم ہے۔

فیصلے میں درخواست گزاروں کی ایف بی آر کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی، ملزمان کی طلبی کے لیے انکوائری کی وجوہات اور معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

تحریری فیصلے کے مطابق ایکٹ میں تحقیقات کرنے کا طریقہ کار واضح ہے، تفتیشی افسر کو فرائض سے آگاہ ہونا چاہیے، تفتیشی افسر کو انسانی حقوق کی بنیاد پرتحقیقات کرنی چاہیے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وکلا کے مطابق کمپینز، ملزمان انکوئری کیلئے متعلقہ دفاتر کے باہرانتظار کرتے رہے، ایکٹ کی روشنی میں تفتیشی افسر انکوائری یا تفتیش کرسکتا ہے۔

منی لانڈرنگ ایکٹ میں تفتیشی افسر متعلقہ جرم سے بنائی جانے والی جائیداد سے متعلق بھی پوچھ گچھ کرسکتا ہے، اس کے علاوہ تفتیشی افسر مقدمہ درج کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں