The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کیس:شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت میں پیش، ایف آئی اے پراسکیوٹر کے ایک بار پھر تاخیری حربے

لاہور : منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے ایک بارپھر تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے چالان میں موجود سقم دور کرنے کے لیےعدالت سے مہلت مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی ، وزیراعظم شہبازشریف اورحمزہ شہباز عدالت پہنچے تو وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کے وکیل امجدپرویز کی گاڑی کوروک دیا گیا۔

دوران سماعت وکیل ،امجد پرویز نے بتایا کہ میری گاڑی کو باہر روکا گیا تمام ریکارڈباہرپڑاہے، جس پر عدالت نے کہا یہ انتظامیہ کاکام ہےمیں نے ایساکوئی آرڈرنہیں کیا، کیا سیکیورٹی ایسی ہوتی ہے تو شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سےایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ چاہتےہیں جوسقم موجودہیں چالان میں ان کودور کیا جائے، چالان کوغلطیوں سمیت آگےچلایاگیاتوملزمان کوفائدہ پہنچےگا ، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ بتایا جائے اگرغلطی تھی تو پراسیکیوشن 4 ماہ کیوں خاموش رہی۔

پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مجھےابھی یہ ذمہ داری ملی،عدالت کی ابھی معاونت کرسکوں گا، سقم ابھی ختم نہ کیے گئےتوکل کوملزمان اپنےحق میں استعمال کریں گے۔

لاہور:متعددملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے، وکیل امجدپرویز نے عدالت کو بتایا ملزمان کوپولیس اندرآنےنہیں دے رہی، ان کے وکلا موجودہیں، جس پر عدالت نے کہا جب ملزمان کو اندر آنےنہیں دیا گیا تو میں کارروائی کیسےکروں گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ میں خودباہرکھڑارہا کئی منٹ اندرنہیں آسکا، جس پر عدالت نے کہا آپ یہاں بھی وزیراعظم ہیں اس کا نوٹس لیں تو شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب کوکہتاہوں انکوائری کرائی جائے۔

لاہور: ایس پی سول لائن صفدر کاظمی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ میری گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بھی اسٹاف سے اہلکار نے بدتمیزی کی، جس پر عدالت نے کہا میں آپ کوشوکازنوٹس دیتاہوں، سیکیورٹی کایہ مطلب ہے کہ آپ عدالت سےہی الجھیں۔

ایس پی سول لائن صفدرکاظمی نے عدالت میں واقعے پر غیر مشروط معافی مانگ لی۔

وکیل امجدپرویز نے کہا شہباز شریف جیل میں تھےجب ایف آئی آردرج کی گئی، کیس بدنیتی پرمبنی ہےعدالت کی رہنمائی ریکارڈکےمطابق کرنی ہے، کوئی سیاسی شخصیت اس میں گواہ نہیں ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ چالان میں کسی سیاسی شخصیت کاذکرنہیں، ایف آئی آرمیں کہاگیاکسی سیاسی شخصیت نےاطلاعات دیں، اس شخصیت نےکوئی بیان نہیں دیا، ساڑھے 12سال وزیراعلیٰ کاکام کیامگرتنخواہیں نہیں لیں، ان تنخواہوں کےمقابلےمنی لانڈرنگ کاالزام زیرہ ہے۔

شہبازشریف کے وکیل ایڈووکیٹ امجدپرویز نے مزید کہا کہ جن 14 اکاؤنٹس کا ذکر ہوا وہ سب بینکنگ چینل سے ہوئیں ،کیس میں ڈیڑھ سال تک بے بنیاد پروپیگنڈاکیا گیا اور ملزمان نے بغیر ثبوت کے بدنامی برداشت کی۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ 18دسمبرکومیرےمؤکل کوجیل میں سوالنامہ دیا جاتا ہے ، میرےمؤکل سے تفتیش کی جاتی ہے، 8جنوری2021کومیرےمؤکل سےجیل میں تفتیش کی جاتی ہے اور 8جنوری سےجون2021تک مقدمہ میں ایف آئی اےخاموش رہتی ہے، لاہورہائیکورٹ سے شہبازشریف کی ضمانت منظور ہو جاتی ہے اور 15 جون 2021 کو ایف آئی نوٹس بھیج دیتی ہے، 5مہینےکی خاموشی کے بعدنوٹس بھیجا جاتا ہے جب بجٹ پیش ہونے والا ہوتا ہے۔

امجد پرویز نے مزید کہا کہ ایف آئی کی گرفتاری کے خدشے پر عبوری ضمانت کیلئےرجوع کیا ، 15ستمبر 2021 سے ایف آئی اےمیں بیانات قلمبندکرناشروع کیے، 27بینک آفیشلزکوہراساں کیاگیا،کہااگرنہیں مانیں گےتونشان عبرت بنائیں گے، درخواست پرعدالت نےتمام بیانات دینےکاحکم دیاجو چھپارکھےتھے، انہوں نے2ملازمین میں سےعاصم سوری کوگرفتارکیا اور عاصم سوری کی بعد ازگرفتاری عدالت ضمانت منظورکر لیتی ہے۔

وکیل امجد پرویز نے استدعا کی کہ عدالت وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو حاضری سے استثنیٰ دے ،ایک ملزم وزیر اعظم اور ایک وزیراعلیٰ ہے، اب ان کا وقت عوام کا ہے ، جب فیصلہ دینا ہو تو ملزمان پیش ہو جائیں گے، جس پر عدالت نے کہا آپ حاضری معافی کی درخواست دیں پھر دیکھ لیتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے شہبازشریف اورحمزہ شہبازکو جانے کی اجازت دے دی۔

خیال رہے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی پیشی پر لاہور کی عدالت میں سیکیورٹی کا کڑا پہرا تھا ، اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے جج کے اسٹاف سے بھی بدتمیزی کی اور ملزمان کے وکلا کی گاڑی کو روکا جبکہ صحافیوں پر بھی دروازے بند کیے۔

جج نے سیکیورٹی انچارج پراظہار برہمی کرتے ہوئے وزیر اعظم سے کہا آپ نوٹس لیں، جس پرشہباز شریف نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو انکوائری کی ہدایت کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں