The news is by your side.

منی لانڈرنگ کیس منتقلی، سندھ ہائی کورٹ نے درخواستیں مسترد کردیں

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ منتقلی کیس کے حوالے سے دائر تمام درخواستیں مسترد کردیں۔

تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں نامزد ملزمان سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور انور مجید نے منی لانڈرنگ کیس کی اسلام آباد منتقلی کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں درخواستوں کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے بینکنگ کورٹ کے منتقلی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کی تمام درخواستیں مسترد کردیں۔

خیال رہے چئیرمین نیب کی درخواست پر بینکنگ کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس کراچی سے راول پنڈی منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت دیگرملزموں کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت بھی خارج کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: جے آئی ٹی نے 11 محکموں سے ریکارڈ مانگ لیا

بعد ازاں پیپلزپارٹی کی قیادت نے منی لانڈرنگ کیس منتقلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، آصف علی زرداری، فریال تالپور اور انور مجید کی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا گیا جس پر آج فیصلہ سنایا گیا۔

واضح رہے 7 جنوری کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کامعاملہ نیب کو بھیجا تھا، فیصلے میں کہا گیاتھا کہ نیب رپورٹ کا جائزہ سپریم کورٹ کا عمل درآمد بینچ لے گا، نئےچیف جسٹس نیب رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے عمل درآمد بینچ تشکیل دیں۔

بعد ازاں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری، فریال تالپور اور مرادعلی شاہ نے فیصلے پر  نظرثانی درخواستیں دائر کیں ، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس منتقلی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کی جائیں، نیب کی استدعا

خیال رہے جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ میں بلاول ہاؤس اور زرداری خاندان کے دیگر اخراجات سے متعلق انتہائی اہم اور ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے کہ زرداری خاندان اخراجات کے لیے جعلی اکاؤنٹس سے رقم حاصل کرتا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں