The news is by your side.

Advertisement

مالی: شکاری قبیلے کا گاؤں پر حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 134 ہو گئی

بماکو: خود کو روایتی شکاری کہلوانے والے مسلح افراد کے ایک گروہ نے مغربی افریقی ملک مالی کے ایک گاؤں پر حملہ کر کے 134 افراد کو تہہ تیغ کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز وسطی مالی کے گاؤں پر ڈوگن ہنٹرز نے حملہ کر کے 134 فولانی چرواہوں کو قتل کر دیا، کہا جا رہا ہے کہ مسلم نسلی گروپ فولانی اور ڈوگن قبائل میں برسوں سے نسلی فسادات ہوتے آ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کے نمائندے فرحان حق کا کہنا ہے کہ گاؤں اوگوساگو میں حاملہ خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے ہفتے کے دن صبح کے وقت حملے سے قبل گاؤں کا محاصرہ کیا، شکاریوں نے گاؤں میں فولانی نسلی کمیونٹی کو نشانہ بنایا جن پر الزام لگایا گیا کہ ان کے جہادیوں سے تعلقات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نیوزی لینڈ میں اسکارف کی مانگ بڑھ گئی، پارک میں 15 ہزار افراد کا مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں کو آتشیں ہتھیار اور ماچس سے نشانہ بنایا گیا، گاؤں کے تمام جھونپڑے بھی جلائے گئے۔

قریبی گاؤں کے میئر نے واقعے کو قتل عام کا واقعہ قرار دیا، دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈوگن اور نیم خانہ بدوش فولانی چرواہوں کے مابین تصادم پانی اور زمین پر بھی ہو سکتا ہے۔

تاہم ڈوگن قبیلے کا الزام ہے کہ فولانیوں کا جہادی گروپس کے ساتھ تعلق ہے، جب کہ فولانیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مالی کی فوج نے شکاریوں کو حملے کے لیے اسلحہ فراہم کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں