The news is by your side.

Advertisement

روس نے اپنے خلاف پابندیوں کو منافع میں بدل دیا

روس یوکرین جنگ کے باعث جہاں دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے وہیں ماسکو حکومت کی برآمدات میں نہ صرف خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں اسے بڑا منافع ہونے کی توقع ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کا ملک کی تیل کی برآمدات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس سال توانائی کی ترسیل کے منافع میں بڑے اضافے کی پیش گوئی ہے۔

تیل کے بعد روس نے چین کو گیس کی سپلائی بھی بڑھا دی

بوسنیائی سرب ٹیلی ویژن سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مغربی پالیسیوں کے نتیجے میں اس وقت توانائی کے شعبے میں جو قیمت کی سطح ہے اس سے بجٹ میں کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ اس کے برعکس رواں سال ہم اپنے توانائی کے وسائل کی برآمد سے منافع میں نمایاں اضافہ کریں گے۔

سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ تیل سیاست کے تابع نہیں اس کی مانگ ہے ہمارے پاس فروخت کے متبادل مارکیٹس ہیں جہاں ہم پہلے ہی فروخت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین پر حملہ کرنے پر ماسکو کو سزا کے طور پر اس سال کے آخر تک روس سے تیل کی درآمدات میں 90 فیصد کمی کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔

چین اور بھارت کو آئل کی ریکارڈ ترسیل کے بعد روس نے چین کے لیے گیس کی سپلائی بھی بڑھا دی۔ روسی توانائی کے بڑے ادارے گیز پروم کے مطابق ماسکو نے بیجنگ کے لیے گیس کی برآمدات میں اضافہ کر دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں