The news is by your side.

Advertisement

مچھروں کو کس قسم کے لوگوں کا خون زیادہ پسند ہے؟ دلچسپ تحقیق

mosquitoes

ایک تحقیق کے مطابق مچھر خاص قسم کے خون سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں اور یہ کام وہ اپنا من پسند خون منتخب کرکے ہی کرتے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال ماہ جولائی سے مون سون کا سیزن شروع ہو جاتا ہے اور اس گرم موسم میں بارش کا ذکر سن کر ہی شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بارش کا موسم انسانی صحت کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

نزلہ، زکام سے لے کر ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا جیسے مہلک امراض بھی اسی موسم میں زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں، بارش کا موسم صحت کے حوالے سے کئی مسائل بھی ساتھ لاتا ہے اور انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

مؤخر الذکر تینوں امراض دراصل مچھر کے کاٹنے سے پھیلتے ہیں اور جیسے جیسے بارش کی وجہ سے ہر طرف پانی جمع ہونے لگتا ہے، مچھروں کی تعداد بھی بڑھتی ہے ساتھ ہی امراض بھی۔

آپ نے اپنے دوستوں، یا قریبی عزیزوں، میں دیکھا ہوگا ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو ہر وقت یہ شکایت کرتا رہتا ہے کہ مچھر بہت ہیں جبکہ دوسرے مچھروں کے ہاتھوں اتنے تنگ نہیں ہوتے۔ تو یہ بات بالکل درست ہے کہ مچھر اپنا شکار منتخب کر کے ہی کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کاٹتے ہیں۔

اس حوالے سے چند عوامل اہم ہیں۔ جرنل آف میڈیکل اینٹومولوجی کی ایک تحقیق کے مطابق مچھر “اے” ٹائپ خون کے مقابلے میں “او” ٹائپ خون رکھنے والے افراد کو دو گنا زیادہ کاٹتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کا تعلق ہمارے جسم سے خارج ہونے والی رطوبت ہے، جو مچھروں کو بتاتی ہیں کہ یہ شخص کون سے قسم کا خون رکھتا ہے۔

فلوریڈا یونیورسٹی میں علم حشریات (حیاتیات) کے پروفیسر جوناتھن ڈے کا کہنا ہے کہ مختلف اقسام کے خون رکھنے والے افراد میں مچھروں کی ترجیحات کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے البتہ انہوں نے اتفاق کیا کہ مچھر ہمارے جسم سے ملنے والے چند اشاروں کی مدد سے کچھ لوگوں کو زیادہ کاٹتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند اشارے انہیں بتاتے ہیں کہ شاید کاربن ڈائی آکسائیڈ ان میں اہم ہو۔ چند لوگوں میں جینیاتی یا دیگر عوامل کی بنیاد پر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ آپ جتنی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالیں گے، اتنا ہی آپ مچھروں کی توجہ حاصل کریں گے۔”

اگلا سوال جو سامنے آتا ہے کہ آخر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے بے جان اجسام کے مقابلے میں آخر کون سی ایسی چیز ہے جو ہمیں ممتاز کرتی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ مچھر بنیادی علامات کے علاوہ کچھ دیگر ثانوی اشارے بھی پاتے ہیں۔

مثلاً لیکٹک ایسڈ، وہ مادہ جو ورزش کے دوران ہمارے پٹھوں میں اینٹھن کا باعث بنتا ہے، ثانوی علامات میں سے ایک ہے۔ یہ جلد کے ذریعے نکلتا ہے اور مچھروں کو اشارہ کرتا ہے کہ ہم ایک ہدف ہیں۔

پھر مچھر کچھ مزید خصوصیات بھی رکھتے ہیں جو انہیں ثانوی اشارے سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ پروفیسر جوناتھن ڈے کا کہنا ہے کہ “مچھروں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے، لیکن وہ ہوا سے بچنے کے لیے زمین کے قریب ہو کر اڑتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ نے کس طرح یا کس رنگ کا لباس پہنا ہے، یہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ گہرے رنگ کا لباس پہننے پر آپ مچھروں کی زیادہ توجہ حاصل کریں گے، جبکہ ہلکے رنگ کے لباس پر وہ زیادہ نہیں آتے۔”

پھر مچھر آپ کے جسم پر اترنے کے بعد بھی کچھ چیزیں محسوس کرتا ہے مثلاً جسم کا درجہ حرارت ایک بہت اہم اشارہ ہوتا ہے جو جینیاتی وجوہات یا پھر جسمانی فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کا جسم نسبتاً گرم ہوتا ہے اور کیونکہ جس مقام سے خون جلد کے قریب ہو، وہاں کچھ گرماہٹ ہوتی ہے اس لیے ان لوگوں کے مچھروں کےکاٹے جانے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

کلیولینڈ کلینک میں جلدی امراض کی ماہر میلیسا پلیانگ کہتی ہیں کہ آپ کا طرزِ زندگی اور صحت کے دیگر عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر جسم کا درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے، آپ ورزش یا چلت پھرت زیادہ کرتے ہیں تو آپ مچھروں کے نشانہ پر زیادہ ہوں گے۔

تحقیق کے مطابق اس کے علاوہ حاملہ خواتین یا زیادہ وزن رکھنے والے افراد بھی مچھروں کی زد پر ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں