The news is by your side.

Advertisement

ہزاروں سال قبل کی پُرکشش خاتون کا نیا چہرہ! ویڈیو دیکھیں

سائنسدانوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 2600 سال قدیم ممی کا جدید ٹیکنالوجی سے چہرہ دوبارہ بنایا تو معلوم ہوا کہ یہ اپنے دور کی جوان اور حسین ترین عورت تھی۔

تقریباْ 2600 سال قبل مرنے والی ایک خاتون ممی کے چہرے کی فرانزک نمونے پر دوبارہ تشکیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے دور کی خوبصورت نوجوان خاتون تھی جس کی  آنکھیں گہری بھوری اور جلد کی رنگت زیتون سے ملتی جلتی تھی جبکہ بالائی دانت قدرے پھیلے ہوئے تھے ۔

مذکورہ ممی 1819 میں دریائے نیل کے مغربی کنارے پر واقع مندروں اور مقبروں کے مشہور کمپلیکس دیرالبحاری  میں فرعون ہتشیپسٹ کے مردہ خانے کے اندر واقع ایک خاندانی قبر میں پائی گئی، جس کے بعد اسے 1820 میں سوئٹزرلینڈ لے جایا گیا، جہاں اسے سب سے مقبول مصری ممی تصور کیا جاتا تھا اور اسے شیپ این آئیسس کا نام دیا گیا تھا۔

کھوپڑی سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چہرہ بنانے کا منصوبہ سسلی میں  ٖ(ایف اے پی اے بی ) ریسرچ سینٹر اور آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی نے برازیل کے تھری ڈی ڈیزائنر سیسرو موریس کے تعاون سے شروع کیا تھا اور ٹیم کو اس منصوبے کی تکمیل میں کئی ماہ لگے۔

ٹیم نے زندہ تہوں کو تھوڑا تھوڑا کرکے بنایا، ٹشو، آنکھیں اورجلد کو باریک تفصیلات سے پہلے شامل کیا جیسا کے بال اور ناک کے گرد چھوٹی جھریاں تاکہ چہرے کے تاثرات کو کامل نمونے کے ساتھ پیش کیا جاسکے۔

دیگرممی کے چہروں کی طرح چہرے کی دوبارہ تشکیل میں زیورات، کپڑے اور وگ استعمال نہیں کی گئی کیونکہ ٹیم کے مطابق یہ سب مفروضے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کا تعلق ایک اعلیٰ امیر طبقے کے خاندان سے تھا، یہ تھیبس شہر کے ایک پادری کی بیٹی تھی، قدیم مصر کے آخری دور سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے ساتویں صدی قبل مسیح میں رسمی تعلیم بھی حاصل کی ہوگی۔

تاہم شیپ این آئسس کے شوہر کے نام یا پیشے کی شناخت یا اس نے بچوں کو جنم دیا یا نہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

شیپییئنز کی جسمانی عمر کا تعین اس کے تابوت کی اندرونی ساخت کی بنیاد پر کیا گیا جس کے مطابق وہ تقریباْ 650 قبل مسیح میں پیدا ہوئی ہوگی اور 620 سے 610 قبل مسیح کے درمیان اسکی موت ہوئی ہوگی یعنی موت کے وقت اس کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان رہی ہوگی۔

اس ممی کی باقیات فی الحال سوئس شہر سینٹ گیلن میں واقع ساؤ گیلو ایبی لائبریری میں رکھی ہوئی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں