The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: قیدیوں کے حقوق کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ریاض: سعودی عرب کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی فلاح کے لیے نئے پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا، پروگرامز کے ذریعے سزا ختم ہونے کے بعد قیدی بہتر انداز میں زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں گے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق حقوق انسان کمیشن نے قیدیوں کے حقوق کے لیے تراحم کے ساتھ مل کر 3 مفاہمتی یادداشتیں طے کرلیں، تراحم قیدیوں کے حقوق کی نگراں قومی کمیٹی کہلاتی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن اور تراحم مفاہمتی یادداشتوں کے بموجب 3 سینٹرز قائم کریں گے۔

ایک سینٹر متبادل سزاؤں کے لیے خاص ہوگا، دوسرا قیدیوں کے ساتھ ویڈیو رابطہ جات کے امور انجام دے گا اور تیسرا سینٹر قیدیوں میں آگاہی پروگرام چلائے گا۔

تراحم کے سیکریٹری جنرل ترکی البطی نے ہیومن رائٹس کمیشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط پر مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بدولت قیدیوں کی نگہداشت کی حکمت عملی کی راہیں متعین ہوگئی ہیں، ان کی وجہ سے قیدیوں کے حقوق کے نئے افق روشن ہوں گے۔

البطی نے کہا کہ اب تک ہمیں قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ویڈیو کالنگ کے سلسلے میں مشکلات اور محکمہ جیل خانہ جات کے ساتھ یکجہتی پیدا کرنے میں رکاوٹیں ہوتی تھیں، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

البطی نے توجہ دلائی کہ ہیومن رائٹس کمیشن کے ساتھ تعاون کے ذریعے قیدیوں کو متبادل سزاؤں کا مرکز اہم ثابت ہوگا۔

آئندہ قیدیوں کی اطلاع کے لیے علمی پروگرام آسانی سے نافذ کیے جا سکیں گے، ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ قیدی سزا مکمل کر کے جیل سے باہر آئیں گے تو وہ معمول کی زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں