The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ پر بھی جا پہنچا

کھٹمنڈو : دنیا میں شاید ہی اب کوئی ایسی جگہ بچی ہو جہاں کورونا وائرس نے اپنی موجودگی کا احساس نہ دلایا ہو، سمندروں اور صحراؤں کے بعد اب یہ دنیا کے سب سے بلند ترین مقام پر بھی پہنچ گیا۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ وائرس دنیا کے بلند ترین مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے تاہم اب دنیا کے بلند ترین مقام ماؤنٹ ایورسٹ پر کوویڈ 19 کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق  نیپالی حکام نے بتایا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کے خواہشمند کوہ پیماؤں میں سے ایک میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کو کوہ پیماؤں کے لیے حال ہی میں سخت پابندیوں کے ساتھ کوہ پیماؤں کے لیے کھولا گیا تھا۔ مارچ 2021 میں طویل عرصے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کو کوہ پیماؤں کے لیے کھولا گیا تھا اور ان پر ٹیسٹ اور سماجی دوری جیسی پابندیوں کا اطلاق بھی کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق بیشتر کوہ پیماؤں نے ان پابندیوں کی کوئی پروا نہیں کی، فیس ماسک یا سماجی دوری جیسی تدابیر پر بیس کیمپ میں قیام کے دوران اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

نیپال کے سی آئی ڈبلیو ای سی اسپتال کی میڈیکل ڈائریکٹر پراتویا پانڈے نے بتایا کہ بیس کیمپ کے حکام نے کوہ پیماؤں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزارت صحت کے ساتھ مل کر کوہ پیماؤں اور دیگر عملے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کی کوشش کی تھی۔ نیپال کے محکمہ سیاحت کے سربراہ رودرا سنگھ نے بتایا کہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں اور ہمیں کوہ پیمائی معیشت کو بچانا ہے۔

پہلا کوہ پیما گزشتہ ہفتے بیمار ہوا تھا اور یہ خیال کیا گیا تھا کہ اتنی اونچائی کے نتیجے میں لاحق ہونے والی بیماری سے متاثر ہے مگر جب اسے بیس کیمپ سے کھٹمنڈو ہیلی کاپٹر سے منتقل کیا گیا تو ٹیسٹ سے کوویڈ کی تشخیص ہوئی۔

یاد رہے کہ نیپال بھارت کا پڑوسی ملک ہے جہاں اس وقت کورونا وائرس کی دوسری لہر اپنے عروج پر ہے۔

نیپال میں جنوری 2021 میں ایسٹرا زینیکا ویکسین سے ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا گیا تھا جو بھارت نے فراہم کی تھی مگر مارچ میں سپلائی نہ ملنے سے اسے روکنا پڑا۔

ابھی کوئی باضابطہ اعلان تو نہیں ہوا مگر بیس کیمپ پر کوویڈ کیس کی تشخیص کے بعد امکان ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کا سیزن آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں