آج ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹرعمران فاروق کی چھٹی برسی ہے -
The news is by your side.

Advertisement

آج ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹرعمران فاروق کی چھٹی برسی ہے

کراچی/ لندن: متحدہ قومی موومنٹ کےمقتول رہنماء ڈاکٹر عمران فاروق کی آج چھٹی برسی ہے ، ملزمان گرفتار لیکن مقتول کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظرہیں۔

ایم کیوایم پاکستان آج ڈاکٹر عمران فاروق کی چھٹی برسی منائے گی ۔ برسی کے سلسلے میں قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔

 مزید پڑھیں: جج نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت سے معذرت کرلی

آج سے چھ سال قبل 16 ستمبر 2010کو برطانوی دارالحکومت لندن میں دو نوجوانوں نے چاقو اور اینٹ کے وار کرکے ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کردیا تھا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ پچاس سالہ رہنما چھریوں کے وار سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ جائے وقوعہ سے ایک ساڑھے پانچ انچ کی چھری اور ایک اینٹ بھی برآمد کی گئی تھی۔

imran-1

اس سلسلے میں پاکستان میں معظم علی، محسن اور کاشف نامی تین افراد مرکزی ملزم کی حیثیت سے گرفتار ہیں جبکہ ان تینوں سمیت دیگر ملزمان سے تفتیش کے دوران کئی انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق کی چھٹی برسی کے موقع پر برطانوی تحقیقاتی ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ رہنما کے قتل کے حوالے سے اب تک 4 ہزار 636 لوگوں سے تفتیش کی جا چکی ہے جب کہ ہزاروں دستا ویزات کابھی جائزہ لیا جاچکا ہے۔

یہ خبر پڑھیں: عمران فاروق قتل کیس، ایف آئی اے برطانوی حکومت کی منتظر

ڈاکٹرعمران فاروق آزادانہ طورپرسیاسی کیریئرشروع کرناچاہتے تھےاور پولیس ان ہی خطوط پر تحقیقات کر رہی ہے، لندن پولیس کہنا ہے کہ ہماری تحقیقات کا مرکز بھی اسی نکتے پر ہے۔

اسکاٹ لینڈیارڈ نے کہا کہ ڈاکٹرعمران فاروق کےقتل کیس کی تفتیش میں تعاون کیا جائے، کسی کے پاس کوئی معلومات ہیں توہم سے شیئرکریں، میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور برطانوی پولیس پاکستانی حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔

عمران فاروق نے سن 2004 میں لندن میں شادی کی تھی اوراپنے پسماندگان میں انہوں نے اہلیہ شمائلہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔

imran-3

ڈاکٹر عمران فاروق اور ایم کیو ایم

ڈاکٹر عمران فاروق متحدہ قومی موومنٹ کے بانی قائدین میں شمار ہوتے تھے ‘ 1978 میں انہوں نے آل پاکستان مہاجرقومی موومنٹ کی بنیادرکھنے میں مدد کی، 1984 میں جب مہاجر قومی موومنٹ نے اے پی ایم ایس او کے بطن سے جنم لیا تو عمران فاروق اس کے پہلے جنرل سیکرٹری اور کنوینئر منتخب ہوئے ۔

ڈاکٹر عمران فاروق کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا ( موجودہ این اے 246) سے 1988 اور 1990 میں قومی اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر بھی قرار پائے۔

imran-2

سن 1992 میں متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا جس کے سبب ڈاکٹر عمران فاروق روپوش ہوگئے اور سات سال روپوشی کی حالت میں زندگی گزارنے کے بعد 1999 کو پاکستان سے فرار ہوکر لندن پہنچے اور سیاسی پناہ حاصل کی۔

پاکستان سے فرار ہونے کے وقت حکومت نے دہشت گردی کے الزام میں ان کے سر کی قیمت مقرر کی ہوئی تھی تاہم بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے انہیں تمام الزامات سے بری قرار دیتے ہوئے ان کے سر پر مقرر قیمت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں