The news is by your side.

’ 28 جولائی کو ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کو شہری علاقے تسلیم نہیں کرینگے ‘

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ 28 جولائی کو ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کو شہری علاقے تسلیم نہیں کرینگے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 28 جولائی کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد میں انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

خالد مقبول نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ حلقہ بندیاں کرنے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کا ہے لیکن سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں سندھ حکومت نے حلقہ بندیاں کی ہیں۔ یہ حلقہ بندیاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اور آئین وقانون کی دھجیاں بکھیر دینے کے مترادف ہیں جن میں کراچی، حیدرآباد کو لسانی طور پر تقسیم کردیا گیا ہے۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ ڈی لمٹیشن اور ووٹر لسٹ کے ذریعے آدھا گنا گیا اور نمائندگی 25 فیصد کردی، ایسے میں شہری علاقوں میں ہونیوالے انتخابات کی کیا حیثیت ہوگی، ایسی حلقہ بندیوں اور جعلی ووٹر لسٹوں پر انتخابات عوام قبول نہیں کرینگے، ہماری تیاری مکمل ہے، ہمارےلوگ تیار ہیں، ہم بلدیاتی انتخابات میں تاخیر نہیں چاہتے لیکن ہمیں مدت انصاف کے حصول کیلیے چاہیے، ہمارا مطالبہ ہے کہ دیر ہو لیکن درست ہو۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ سازش کرکے چرایا جارہا ہے، حلقہ بندیوں پر ہم الیکشن کمیشن کے پاس بھی گئے، سپریم کورٹ میں مقدمہ لیکر گئے تو تمام اعتراضات کو جائز سمجھا گیا، اس کے باوجود کہا گیا کہ الیکشن سر پر ہیں تو اسی حلقہ بندیوں میں ہونےدیا جائے، سوال کرتا ہوں اپنے حق کے لئے کہاں جا کر مقدمہ رکھیں؟

خالد مقبول نے کہا کہ این اے 245 کے ضمنی الیکشن کے بعد ہم عوام سے رائے لیں گے، کیا ایسے انتخابات جس کی شفافیت پر سوالات ہوں تو کیا وہ شفاف کہلائیں گے۔ ہم 21 تاریخ کے بعد عوام کے پاس جا رہے ہیں، رابطہ کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ کسی کو شہر پر قبضے کا موقع نہیں دینا۔ وفاق سے جو معاہدہ ہوا اس کی کئی شقوں پر عملدرآمد ہوچکا،21 تاریخ کے بعد بتائیں گے کتنا معاہدوں پر عملدرآمد ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری میں سندھ بالخصوص کراچی کی آبادی کو کم سے کم دکھایا گیا، اس سے متعلق ہمارا مقدمہ سپریم کورٹ میں سسک رہا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو دوبارہ گنا جائے اور سپریم کورٹ سمیت ریاست سے درخواست ہے کہ اس بار مہاجروں کو درست گنا جائے۔ پری پول دھاندلی نہ ہو،عوام کی امنگوں کےمطابق فیصلہ آنا چاہیے۔

کنوینر ایم کیو ایم پاکستان نے مزید کہا کہ اسوقت سندھ پر 14 سال سے ایک ہی سیاسی جماعت حکومت کر رہی ہے، اس کے پاس مینڈیٹ سے زیادہ وسائل ہیں۔ کراچی میں عام سی بارش ہوئی مگر سڑکیں سلامت نہیں ہیں، کراچی ایک آفت زدہ علاقہ ہے، ہم سندھ حکومت سے معاہدے کی بات کرتے ہیں، سندھ حکومت کو حتمی جواب دینا پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں