ایم کیو ایم پاکستان کا اجلاس، فاروق ستار غیر حاضر mqm pakistan
The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کا نام، منشور اور انتخابی نشان برقرار رہے گا، کنورنوید جمیل

کراچی: ڈپٹی کنونیر کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان اپنے نام، منشور اور نشان کے ساتھ  قائم رہے گی، سیاسی اتحاد کی بات کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے کارکنان کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کے بعد مرکزی دفتر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی، کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے سیاسی اتحاد کی بات کی تھی جسے کچھ لوگ دونوں جماعتوں کا ضم ہونا سمجھ رہے ہیں جو کہ درست نہیں۔

 ڈپٹی کنونیر کنور نوید جمیل نے کہا کہ جس طرح ماضی میں ایم ایم اے، آئی جے ائی اور نو ستارے جیسے انتخابی اتحاد بنے تھے جس میں مختلف الخیال جماعتوں نے ایک انتخابی نشان اور انتخابی منشور کے تحت الیکشن لڑا تھا تاہم سب کا انفرادی تشخص اور جماعتی ڈھانچہ برقرار رکھا تھا چنانچہ ایم کیو ایم بھی اسی قسم کے اتحاد کی بات کرتی ہے۔

تاہم انتخابی نشان پتنگ کے بجائے کسی اور نشان کے ساتھ اتحادی جماعتوں کے ہمراہ الیکشن لڑنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات دور ہیں اور ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم یہ بات طے ہے کہ ایم کیوایم  پاکستان 2013 کے الیکشن میں اپنی جیتی ہوئی نشستوں پر کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔

کنور نوید جمیل نے مزید واضح کیا کہ آج کے اعلٰی سطح کے اجلاس میں گزشتہ روز ہونے والی پیشرفت کے بعد سے کل پیدا ہونے والی صورت حال پر گفتگو ہوئی جس کے بعد نئے لائحہ عمل سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے میں آج میڈیا سے بات کررہا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد متحدہ رہنما اور اراکین اسمبلی دو گروہ میں بٹ گئے تھے اور کچھ اراکین نے مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ایک رکن قومی اسمبلی مستعفی بھی ہو گئے تھے۔

یاد رہے ڈاکٹر فاروق ستار نے مصطفیٰ کمال کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہری سندھ کے عوام کی خاطر ہم آئندہ ہونے والے الیکشن میں ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کے ساتھ انتخاب لڑیں گے۔

مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کے اعلان کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کو ملنے والا مینڈیٹ بانی ایم کیو ایم کا تھا اور یہ نام بھی اُسی کے نام سے منسوب ہے اس لیے آئندہ انتخابات نئے نشان اور نام کے ساتھ لڑیں گے۔

دونوں جماعتوں کے سربراہان نے اعلان کیا کہ نئے سیاسی اتحادکے حوالے سے مزید مشاروت کی جائے گی اور ملک کو ایک نئی سیاسی قیادت فراہم کریں گے جو تمام قومیتوں کی نمائندگی کرے گی۔

مزید پڑھیں: متحدہ اور پی ایس پی کا انتخابات ایک جماعت اور نشان سے لڑنے کا اعلان

پریس کانفرنس کے دوران ہی متحدہ کے ڈپٹی کنونیر عامر خان نے دبئی سے بیان جاری کیا تھا کہ سیاسی اتحاد کے لیے جو شرائط بتائی گئیں اُن میں سے کوئی بھی پریس کانفرنس میں نظر نہیں آئی، وطن واپسی پر صورتحال کا جائزہ لوں گا اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں سیاسی اتحاد کے اعلان سے قبل جب ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین کا اجلاس طلب کیا تو اُس میں بھی کئی رہنماؤں نے اظہار ناراضی کیا اور اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے آج صبح اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وضع کیا کہ متحدہ اپنے انتخابی نشان اور نام کے ساتھ ہی الیکشن میں حصہ لے گی۔

اسی طرح ڈپٹی کنونیر عامر خان کی وطن واپسی پر رابطہ کمیٹی اور  منتخب عوامی نمائندوں کا اجلاس طلب کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کنونیر کنور نوید جمیل نے کی، 23 اگست کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ متحدہ سربراہ کے بغیر کوئی اجلاس منعقد کیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کے نام اور پتنگ کے نشان کیساتھ کھڑا ہوں اورکھڑارہوں گا، عامر خان

قبل وزیں نمائندہ اے آر وائی رافع حسین نے یہ انکشاف کیا تھا کہ  ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ سے غیر حاضری کی وجہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون نہ اٹھایا تاہم متحدہ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ذاتی مصرفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔

کنور نوید جمیل کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں خواجہ اظہار، فیصل سبزواری، رؤف صدیقی، امین الحق، وسیم اختر سمیت رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین اور پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔

اجلاس میں گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد ناراض ہونے والے رہنماؤں کو منانے، علی رضا عابدی کے استعفیٰ اور عامر خان کے تحفظات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

متحدہ کے رہنماؤں نے کا پارٹی نام سے دستبردار نہ ہونے پر اصرار کیا اور نام،نشان تبدیل کرنے کی صورت میں سیاست چھوڑنے کا عندیہ دیا۔

ایم کیو ایم رہنماؤں کی گفتگو

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں