site
stats
سندھ

ایم کیو ایم کا اسلحہ پکڑا گیا، تین کارکنان گرفتار

کراچی: سی ٹی ڈی نے ملیر جعفر طیار میں کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ آمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی عمر شاہد نے میڈیا بریفننگ کے دوران بتایا کہ کارروائی خفیہ اطلاع ملنے پر کی گئی، ملزمان آپریشن کے ڈر سے ملیر غازی ٹاؤن میں اسلحہ چھپانے جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور ان میں سے ایک سابق جوائنٹ انچارج تھا، گرفتار افراد کی شناخت انوار حسین، آصف ممتاز عرف میر اور خرم شہریار عرف لمبا کے نام سے ہوئی ملزمان کے قبضے سے 6 کلاشنکوف، ایل ایم جی، 6 رپیٹر سمیت 5 ٹی ٹی پستول اور دو سیون ایم ایم رائفل برآمد ہوئی ہیں۔

پڑھیں: ’’ سادہ لباس اہلکار کارکنان کو گرفتار کررہے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان ‘‘

ایس ایس پی سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان نے تین قتل کا اعتراف کرلیا ہے جن میں عرفان حیدر، جمیل اور عبد الحفیظ کا قتل شامل ہے جبکہ ملزمان نے ٹارگٹ کلنگ کی متعدد واداتوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔

قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ برآمد ہونے والا اسلحہ ایم کیو ایم پاکستان کا ہے تاہم اب اس حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں اور ابھی تک واضح نہیں ہوسکا کہ اسلحہ ایم کیو ایم پاکستان کا ہے یا لندن کا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ اسلحہ برآمد کرنے کی کارروائی گرفتار ٹارگٹ کلر انوز کی نشاندہی پر کی گئی اور قبر میں سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔

ٹارگٹ کلر کے انکشافات

گرفتار ٹارگٹ کلر انور کے اعترافی بیان کی فوٹیج اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی، جعفر طیار قبرستان سے برآمد شدہ اسلحہ اسی ٹارگٹ کلر کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا۔ ٹارگٹ کلر انور نے اعتراف کیا ہے کہ فرقہ وارانہ بنیاد پر گینگ وار کے 2 افراد کو قتل کیا، دونوں افراد کو پارٹی کے عہدے دار کے کہنے پر قتل کیا۔ ملزم نے مزید اعتراف کیا کہ 44بور اور پستول چلانا جانتا ہوں، اس نے فدا کے اڈے پر بھی فائرنگ کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top