The news is by your side.

بلدیاتی انتخابات ترامیم: ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی سے دوٹوک بحث کا فیصلہ

کراچی: سندھی اکثریتی علاقوں میں29ہزارووٹرزپریوسی،ہمارےعلاقوں میں1لاکھ ووٹرزکیوں؟ اہم اتحادی ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی سے حلقہ بندیوں کے معاملے پر دوٹوک بحث کا فیصلہ کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی سے حتمی بات چیت کے لئے وفد کو حتمی شکل دے دی ہے،ایم کیو ایم کے وفد میں وسیم اختر،خواجہ اظہارالحسن اورجاوید حنیف شامل ہوں گے۔

ذرائع ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سے حلقہ بندی پردو ٹوک بحث کا فیصلہ کیا گیا ہے، حلقہ بندیوں سے کسی جماعت کو شہری سندھ پرقبضےکی چھوٹ نہیں دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایم کیو ایم کا موقف ہوگا کہ سندھی اکثریتی علاقوں میں29ہزار ووٹرزپریوسی اور ہمارےعلاقوں میں1لاکھ ووٹرزکیوں؟، پیپلز پارٹی
معاہدوں پرعملدرآمد کرائیں گےیا پھرہم بھی معاہدوں کی پاسداری سےمعذرت کرلیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ن لیگ نے تحریک عدم اعتماد واپس لےلی

ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کا وفد بلاول بھٹو کےحالیہ بیان پروضاحت بھی طلب کرےگا۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان کی ناراضگی دور کرنے کےلئے بلاول ہاؤس میں اجلاس ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، ناصر حسین شاہ بھی اجلاس میں موجود ہیں جبکہ اجلاس میں شرکت کے لئے وفاقی حکومت کا وفد بھی کراچی پہنچے گا۔

بلاول ہاؤس میں جاری اجلاس سے قبل سندھ حکومت نے حلقہ بندیوں میں ترمیم سے متعلق قانونی ماہرین سے مشاورت بھی کی تھی، جہاں ماہرین نے سندھ حکومت کو بتایا کہ اب بلدیاتی قانون میں تبدیلی ممکن نہیں اور نہ ہی 15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میں تاخیر کا جواز ہے۔

قانونی ماہرین نے واضح کیا کہ حلقہ بندیاں تبدیل کرنےپرقانون کی خلاف ورزی کا سامناہوسکتاہے۔

سندھ حکومت نے قانونی ماہرین کی آرا اور پیچیدگیوں کو ایم کیو ایم پاکستان کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں