The news is by your side.

Advertisement

پی پی سے ہونے والے معاہدے، قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار ہے: ذرائع ایم کیو ایم

کراچی: ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سے ہونے والے معاہدے اور قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار ہے، پیپلز پارٹی کو ایک ماہ سے بلدیاتی ایکٹ کا ڈرافٹ دیا ہوا ہے لیکن اس پر قانون سازی نہیں ہو پا رہی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان گزشتہ رات ایک اہم ملاقات ہوئی تھی، جس کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے آصف زرداری کے سامنے اپنے تحفظات رکھے تھے، خالد مقبول نے آصف علی زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر عوام کا شدید دباؤ ہے، آپ پیپلز پارٹی وفد کو جلد قانون سازی کرنے اور معاہدے پر عمل کو تیز بنانے کی ہدایت کریں۔

ذرائع ایم کیو ایم کے مطابق اب تک پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم 10 ملاقاتیں کر چکی ہے، تاہم دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ جعلی ڈومیسائل، جعلی بھرتیوں، کوٹے کے مطابق نوکریوں کے معاملے پر سب عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے ملاقات میں کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے تمام ادارے، اٹھارٹیز میئر کے ماتحت ہوں، اور ہم 140 اے پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ڈرافٹ کو قانونی شکل دینے کی یقین دہانی کرائی۔

ایم کیو ایم کی جانب سے کہا گیا کہ بلدیاتی انتخابات آگے بڑھانے کے حوالے سے سلیکٹ کمیٹی میں بھی وہ رائے دے چکے ہیں، حلقہ بندیوں پر شدید اعتراضات کی وجہ سے عدالتوں میں بھی گئے ہیں، بلدیاتی انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں اور بلدیاتی ڈرافٹ کو قانونی شکل دینا لازم ہے۔

ملاقات میں ایڈمنسٹریٹر کراچی کے حوالے سے بھی ایم کیو ایم نے مؤقف رکھا، ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے ملاقات میں ڈاکٹر سیف الرحمان کا نام ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے آصف زرداری کے سامنے رکھا گیا، ایم کیو ایم وفد نے وزارتوں کی پیش کش پر کہا کہ ہمیں وزارتوں کی اتنی جلدی نہیں، اس سے پہلے معاہدے پر عمل اور قانون سازی کو پورا کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں