site
stats
سندھ

میئرو ڈپٹی میئر کے انتخابات ملتوی، متحدہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس طلب

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کراچی اورسندھ میں میئر، ڈپٹی میئر اورڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات ایک بار پھرملتوی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اوراس معاملے پرآئندہ کا لائحہ عمل تیارکرنے کیلئے رابطہ کمیٹی کاہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی اورسندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے سات ماہ ہوچکے ہیں لیکن اب تک میئر، ڈپٹی میئر اورڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں اوران انتخابات کوایک سازش کے تحت مختلف بہانے بنا کر مسلسل ٹالا جارہا ہے ۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے میئر، ڈپٹی میئر اورڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات کے انعقاد کے لئے خود 9 جون کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا لیکن آج الیکشن کمیشن کے چارارکان کی ریٹائرمنٹ کو بھونڈا جواز بنا کر ایک بار پھر الیکشن کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

اس طرح نہ صرف منتخب بلدیاتی نمائندوں کوان کے آئینی وقانونی حق سے محروم کیا جارہا ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات اورآئین وقانون کی بھی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی اورسندھ میں میئر، ڈپٹی میئر اور ڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات کو روکنے کیلئے جس طرح بار بار التواء میں ڈالاجارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ارباب اختیار کراچی اور شہری سندھ کو حق حکمرانی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ انہیں ان کے اس بنیادی حق سے جان بوجھ کر محروم رکھنا چاہتے ہیں۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی اورسندھ کے شہری اوردیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی صورتحال انتہائی خراب بلکہ ناگفتہ بہ ہے۔

اس صورتحال کی روشنی میں میئر، ڈپٹی میئر اور ڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات بہت ضروری ہیں تاکہ منتخب نمائندے شہری مسائل کے حل کے لئے کام کرسکیں لیکن اسٹیبلشمنٹ میں موجود متعصب ارباب اختیار کراچی اورسندھ کو مسائل میں گھرا رکھنا چاہتے ہیں اسی لئے ایک بارپھر میئر، ڈپٹی میئر اورڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات ملتوی کئے جارہے ہیں۔

رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ کراچی اورسندھ دشمنی بند کی جائے اورمیئر، ڈپٹی میئر اورڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات فی الفورکرائے جائیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top