The news is by your side.

Advertisement

بجٹ نامظور، کراچی میں پانی کی قلت ختم کرو، ایم کیو ایم کے اراکین سراپا احتجاج

کراچی: متحدہ قومی موؤمنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اراکین صوبائی اسمبلی نے  بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق  ایم کیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل کی قیادت میں اراکین اسمبلی نے مالی سال 2021-2020 بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔

ایم کیو ایم کے اراکین نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا۔

متحدہ کے اراکین اسمبلی نے مؤقف اختیار کیاکہ سندھ حکومت نے تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور مفاد عامہ کے لیے کراچی اور حیدرآباد میں کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا، پیپلز پارٹی نے گزشتہ13برسوں سے کراچی،حیدر آباد،میر پور خاص،سکھر،نواب شاہ کا استحصال جاری رکھا ہوا ہے۔

ایم کیو ایم نے بجٹ کو غیر منفصانہ قرار دیتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے ظلم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

متحدہ کے اراکین اسمبلی نے کراچی میں پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ اراکین اسمبلی کیمپ میں کراچی اور حیدرآباد کو پانی دو کے بینر ہاتھوں میں تھامے بیٹھے ہوئے تھے۔

پی پی کی قیادت نے اراکین کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی اور امتیاز شیخ کو مذاکرات کا ٹاسک دیا، پیپلزپارٹی کا وفد ایم کیو ایم اراکین سے ملاقات کے لیے پہنچا۔

ایم کیو ایم اور حکومتی وزرا کے درمیان ہونے والے ملاقات میں میئر کراچی وسیم اختر بھی موجود تھے جنہوں نے بلدیاتی حکومت کے مسائل بھی صوبائی وزرا کے سامنے اٹھائے۔

وزرا کمیٹی کے سربراہ امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ ’ایم کیو ایم کے مطالبات نئے نہیں ہیں، ہم نے وزیر اعلیٰ کو احتجاجی اراکین کے مطالبات کے حوالے سے آگاہ کردیا، سارے مسائل اور معاملات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی حل ہوسکتے ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایم کیو ایم کے اراکین کو اس بات پر رضا مند کرنے کی کوشش کی کہ وہ احتجاجی کیمپ ختم کر کے بات چیت شروع کریں مگر ایم کیوایم کے اراکین نہیں مانے، اب ہم وزیراعلیٰ کی اگلی ہدایت کےمنتظرہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں