The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کا اپوزیشن لیڈر کے لیے حلیم عادل کی درخواست پر دستخط سے انکار

کراچی: سندھ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر پی ٹی آئی سندھ نے اپنے اتحادی ایم کیو ایم کو نظر انداز کر دیا، اس سلسلے میں آج ہونے والی مذاکراتی نشست میں بھی اتحادی کے مؤقف کو اہمیت نہیں دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق آج گورنر ہاؤس کراچی میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ایک مذاکراتی نشست ہوئی، جس میں صوبے کے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر ایم کیو ایم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی کے تحفظات سے گورنر سندھ اور اتحادی جماعت تحریک انصاف کو آگاہ کر دیا، ایم کیو ایم نے اپوزیشن لیڈر کی درخواست پر دستخط بھی نہیں کیے، جب کہ پی ٹی آئی اورگرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے اس پر دستخط کر دیے۔

ذرائع ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ نشست میں ایم کیو ایم نے اپنے مؤقف میں کہا کہ پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن لیڈر کسی سینئیر پارلیمنٹیرین کو بنایا جائے، نام پر مشاورت ہونی چاہیے تھی، میڈیا سے نام کا پتا چلا، ہم اتحادی جماعت ہیں، نام کے اعلان کے بعد مشاورت کس بات کی۔

سندھ میں پی ٹی آئی کا نیا اپوزیشن لیڈر، اتحادی جماعت کے تحفظات سامنے آ گئے

ایم کیو ایم کا مؤقف تھا کہ رہنما حزب اختلاف اپوزیشن کا چہرہ ہوتا ہے، پہلے ہی ڈھائی سال نا تجربہ کار اور پارلیمانی سسٹم سے نا واقف شخص کو اپوزیشن لیڈر بنائے رکھا گیا جس سے اسمبلی میں مسائل کا سامنا رہا، حلیم عادل کی شخصیت سے اختلاف نہیں لیکن اپوزیشن لیڈر کے لیے تجربے کار پارلیمنٹیرینز کو نظر انداز کر کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

ادھر پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نشست میں کہا گیا کہ اسمبلی میں جس کی اکثریت ہوتی ہے اپوزیشن لیڈر اسی کا ہوتا ہے۔ دریں اثنا، تحریک انصاف نے اپوزیشن لیڈر کے لیے درخواست پیر کے روز اسمبلی میں جمع کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ملاقات میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں اور اتحادیوں کے درمیان تحریری معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی، گورنر سندھ نے ایم کیو ایم کو کراچی پیکج، ترقیاتی منصوبوں اور تحریری معاہدوں پر من و عن عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی، انھوں نے کہا کہ گرین لائن بس مارچ میں چل جائے گی، پانی کے منصوبے کے فور پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں