موت سے بھاگنے کی کوشش کرتا ڈائنو سار؟ -
The news is by your side.

Advertisement

موت سے بھاگنے کی کوشش کرتا ڈائنو سار؟

بیجنگ: چین کے شہر گانزو میں اتفاقیہ طور پر ایسے ڈائنو سار کا ڈھانچہ دریافت ہوا ہے جسے دیکھ کر یوں لگ رہا ہے جیسے وہ کسی شے سے بچنے کے لیے بھاگ رہا ہو۔

چین کے شہر گانزو میں ایک اسکول کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کھدائی کے دوران مزدوروں نے ایک صدیوں پرانے ڈائنو سار کی باقیات دریافت کر ڈالیں۔ اس ڈائنو سار کے پروں کی جگہ بازو، ایک چونچ جبکہ سر پر ایک کلغی بھی ہے۔

دو میٹر لمبے اس ڈائنو سار کو پروں کی وجہ سے ڈریگن کا نام دیا گیا ہے۔ اسے دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے وہ کسی شے سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہو، لیکن اس کا پاؤں کیچڑ میں پھسل گیا اور بھاگنے کی ناکام جدوجہد کے بعد وہ وہیں ہلاک ہوگیا۔ اس کی باقیات اسی حالت میں دریافت ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں ڈائنو سار کے انڈے برآمد

ماہرین رکازیات کے مطابق یہ ڈریگن ’کریٹیشس‘ دور سے تعلق رکھتا ہے۔ کریٹیشس دور زمین پر عظیم الجثہ (ڈائنوسار) جانداروں کا سب سے طویل دور کہلاتا ہے جو تقریباً 16 کروڑ سال کے طویل عرصے پر مشتمل تھا۔ اس دور کا خاتمہ اب سے 6 سے 7 کروڑ سال قبل ہوگیا۔

اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے ماہر رکازیات اسٹیو بروسٹ کا کہنا ہے کہ اس ڈریگن کی دریافت ڈائنو سار، ان کے دور اور ان کے خاتمے کے بارے میں سمجھنے کے لیے مزید معلومات فراہم کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی مقام سے 5 مزید ڈریگن کی باقیات ملی ہیں اور ان کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے خاتمے کا وقت قریب ہونے کے باوجود ان کی نسل میں ارتقا کا سلسلہ جاری تھا۔

ماہرین کے مطابق اس ڈریگن کا جسم کیچڑ کے ساتھ مل کر پتھر کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جس حالت میں ملا ہے وہ حالت نہایت حیرت انگیز ہے۔

اس سے قبل منگولیا میں بھی ایسے ہی دو ڈائنو سار کی باقیات ملی ہیں جو لڑائی میں مصروف تھے اور اسی دوران ان پر ریٹ کا ٹیلہ آ گرا۔ ماہرین کو ان کے ڈھانچے آپس میں متصادم ہی ملے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں