The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی حکومت کی کارگردگی : مفتاح اسماعیل نے بھی میڈیا کو ایک خط دکھا دیا

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے کھاد کی قلت اورسبسڈی میں بےضابطگیوں پر کمیشن بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ایک خط دکھانا چاہتا ہوں جو عمران خان کی نااہلی اور بدعنوانی کا ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط دکھانا چاہتا ہوں جو ظاہر کرتا ہے عمران خان نااہل ہے، میں یہ خط چھپا کر گھر نہیں لےجاؤں گا پورا پڑھ کر سناؤں گا، یہ خط عمران خان کی نااہلی اور بدعنوانی کا ثبوت ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ترقی کی شرح نواز دور میں 6.1 فیصد تھی ، یہ اپنے پہلے سال میں ترقی کی شرح 1.9 فیصد نیچے لے آئے، ان کی حکومت کے دور میں ترقی کی شرح دوسرے سال میں منفی ہوگئی۔

خسارے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہمارا خسارہ 1600ارب روپے تھا، سابقہ حکومت کا صرف اس سال مجموعی خسارہ 5600 ارب روپے ہوگا۔3

ان کا مزید کہنا تھا کہ پونے 4 سال میں خان صاحب نے 20 ہزار ارب روپے سے زائد قرضہ لیا اور اور پھر بھاشن بھی دیتےہیں، ن صاحب  کی نااہلی کی وجہ سے ساڑھے7کروڑ لوگ آج غربت کی لکیرسے نیچے پہنچ گئے۔

سابق حکومت کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انھوں نے ایک اینٹ نہیں لگائی ان کےدورمیں پیش صرف تختیوں پر خرچ ہوا، نواز شریف کی تصویر اتار کر اپنی لگائی، شہبازشریف کی تصویر ہٹاکر بزدار کی لگالی، ن صاحب کی نااہلی کی وجہ سے ساڑھے 7 کروڑ لوگ آج غربت کی لکیرسے نیچے پہنچ گئے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ ن لیگ کرنٹ اکانٹ خسارہ زیادہ چھوڑ کر گئی تھی، 2018 میں ن لیگ حکومت ختم ہوئی تو سرکلر ڈیٹ ایک ہزار ارب روپے تھا، انھوں نے کبھی ایک پیسہ قرض واپس نہیں کیا صرف قرض بڑھایا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ چین سے ادھار آپ نے لیا تھا اس کا تحریک عدم اعتماد سے کیا تعلق تھا، تنقید ضرور کریں مگر ایسی بات نہ کریں جس پر لوگ تمسخر اڑائیں۔

سابق حکومت کی جانب پیٹرول سستا کرنے کے حوالے سے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سے خان صاحب جیب سے پیسے نہیں دے رہے تھے، پیٹرول سستا کرنا بڑی بات نہیں تھی، اپنی لینڈر کروز میں 80 لیٹر پیٹرول ڈلواؤ تو حکومت مجھے 1680روپے سبسڈی دے رہی ہے، یہ تنخواہ دار طبقے کا پیسہ ہے،یہ سبسڈی مفتاح اسماعیل کو مل رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عمران خان نے جو اعلان کیا نہ وہ بجٹ اور نہ ای سی سی میں ریلیف کا ذکر تھا، بغیرسمری کے خان صاحب نے ایک قلم سے پیٹرول ،ڈیزل سستا کردیا، عمران خان نے ہماری حکومت کو مشکل ہو اس لئے پیٹرول ،ڈیزل سستا کیا۔

بجلی بحران سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے7 ہزار میگاواٹ کے پاورپلانٹس بند ہیں اس لئے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، 5500 میگا واٹ کے پلانٹ صرف فیول ، پیٹرول کی کمی پر بند ہیں، 2000 میگا واٹ کے پلانٹ مین ٹیننس کی وجہ سے بند ہیں، ان کے پاس مینٹیننس کے پیسے نہیں تھے اس لئے پلانٹ خراب ہوگئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرول پر سبسڈی کا نقصان غریب پر پڑتاہے، کس کس نے بد عنوانی کی کمیشن بنا کر رپورٹ سامنے رکھیں گے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انشااللہ ایسا کوئی طریقہ نکالیں گے آئی ایم ایف پروگرام بحال ہوجائے، بجٹ ڈسپلن واپس لائیں گے ، عوام اور ترقی دوست بجٹ دیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اب انشااللہ روپیہ مستحکم رہے گا ،مزید کم نہیں ہوگا، اچھی مینجمنٹ سے جوکرسکتے ہیں کریں گے ، مہنگائی بھی کم کریں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت باربار ایل این جی خریدنا بھول جاتی تھی، انشااللہ ہم اگلے دو سے 4 ماہ میں ایل این جی سےمتعلق لانگ ٹرم سودے کریں گے اور دو سے تین ماہ میں بجلی گیس بحران سمیت مہنگائی بھی کم ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں