The news is by your side.

Advertisement

این اے 249: لیگی امیدوار کو ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کلین چٹ مل گئی

کراچی: الیکشن ٹربیونل نے لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کے خلاف این اے 249 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق اپیل کو مسترد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹریبونل کراچی نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 پر مفتاح اسماعیل کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کےخلاف اپیل کی سماعت کی، درخواست پی ٹی آئی امیدوار کی جانب سے دائر کی گئی۔

پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل حسنین علی نے الیکشن ٹریبونل سے استدعا کی کہ مفتاح اسماعیل کےکاغذات نامزدگی مسترد کیےجائیں، کیونکہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت حلف نامے میں مفتاح اسماعیل نےگاڑی اور سرمائے کا ذکر نہیں کیا۔

جس پر الیکشن ٹریبونل نے کہا کہ نااہلیت کا معاملہ مختلف ہوتا ہے، عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ کیا آپ کے مخالف امیدواربینک کرپٹ ہیں؟ کیا انہیں کسی کیس میں سزا ہوئی؟جواب میں پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل نے اہلیہ کو ساڑھے تین کروڑ روپےکا گفٹ دیا، حلف نامے میں مفتاح اسماعیل نے ایک کروڑ کا تحفہ ظاہر کیا جبکہ باقی چھپادئیے، الیکشن ٹریبونل نے پی ٹی آئی امیدوار سے استفسار کیا کہ کیا ایف بی آر نےمفتاح اسماعیل کو کوئی نوٹس دیا؟۔

پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل حسنین علی چوہان نے الیکشن ٹریبونل کو بتایا کہ آر او نے کاغذات کا جائزہ لینےکےبجائےصرف لفظ ’’منظور‘‘لکھا۔

بعد ازاں مفتاح اسماعیل کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ میرے موکل نےحلف نامےمیں کوئی حقائق نہیں چھپائے، حسنین علی چوہان کے دلائل مفروضےپر قائم ہیں، میں پی ٹی آئی کے وکیل سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی گاڑی کی دستاویزات میرے موکل کےنام ہیں؟

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹربیونل نے لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کے خلاف اپیل مسترد کردی اور انہیں کراچی کے حلقے این سے 249 سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔

الیکشن ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں پی ٹی آئی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتاہےآپ کا کیس مضبوط ہو مگر الیکشن سے قبل ٹریبونل ان معاملات کو نہیں جانچ سکتی۔

واضح رہے کہ این اے 249 کی سیٹ پاکستان تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اس سیٹ کے لیے امجد آفریدی کو ٹکٹ دیا گیا ہے، اس سیٹ پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔عام انتخابات کے دوران اس سیٹ پر شہباز شریف کو فیصل واوڈا کے ہاتھوں چند سو ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں