The news is by your side.

Advertisement

مفتی منیب کا آج ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

کراچی: مفتی منیب الرحمان نے آج ملک بھر میں پُر امن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی حمایت کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق مفتی منیب الرحمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاہور واقعے کے خلاف آج ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوگی، مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی نے بھی مفتی منیب کی ہڑتال کی کال کی حمایت کر دی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے بیان میں کہا کہ مفتی منیب کے مؤقف اور مطالبات و اعلانات کی حمایت کرتے ہیں۔

کراچی سندھ بار کونسل نے لاہور واقعے پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کو مظاہرین سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے، آل سٹی تاجر اتحاد ایسوایشن نے بھی آج ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔

لاہور میں پولیس اور رینجرز کو اغوا کیا گیا، فواد چوہدری

تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے کہا کہ شہر کی تمام مارکیٹیں بند رہیں گی، کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی علمائے کرام کی اپیل پر شہر کی تمام الیکٹرونکس مارکیٹس بند رکھنے کا اعلان کر دیا ے۔

دوسری جانب سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز نے بھی آج کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے، سی این جی اسٹیشنز اور پٹرول پمپ مالکان نے بھی ہڑتال کی حمایت کا عندیہ دے دیا، ایسوسی ایشن نے بیان میں کہا کہ آج کراچی میں سی این جی اسٹیشنز بند رکھے جائیں گے۔

مرکزی انجمن تاجران تاجر اتحاد نے صوبے بھر میں شٹر ڈاؤن جب کہ گڈز ٹرانسپورٹ تنظیموں نے آج پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور میں یتیم خانہ چوک پر کئی دنوں سے قابض مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے آپریشن کیا ہے۔

ادھر سجادہ نشین عیدگاہ شریف صاحب زادہ پیر حسان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست کی حیثیت ایک ماں اور رعایا کی اولاد جیسی ہوتی ہے، ریاست افہام و تفہیم کے ساتھ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے، اور موجودہ صورت حال میں اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری طرف وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اسلام آباد کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، تمام اہم مقامات اور تنصیبات پر بھی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں گے، اور کسی بھی شاہراہ کو بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں