site
stats
پاکستان

مفتی نعیم نے مشعال خان کو شہید قرار دے دیا

کراچی: معروف عالم دین مفتی نعیم نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو غلط استعمال کیا جارہا ہے، مردان یونیورسٹی میں طالب علموں نے مشعال پر غلط الزام عائد کر کے اُسے شہید کردیا۔

اے آر وائی کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی نعیم نے کہا کہ مردان کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ملک میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے کیونکہ قصور وانہ ہونے کا فیصلہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو اطلاعات سامنے آئیں اُس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ طلباء نے آپس کے جھگڑے میں مشعال پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا اور اُسے جان سے مار دیا، میں اُسے شہید کہوں گا۔

ویڈیو دیکھیں

مفتی نعیم نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تعلیم تو دی جارہی ہے مگر تربیت کا فقدان ہے، آج طلبہ جامعات میں منشیات کا استعمال کررہے ہیں اور اساتذہ بھی اس بابت میں کوئی کردار ادا نہیں کررہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص گستاخ رسول کا مرتکب ہوتا ہے تو عدلیہ کو چاہیے اُس کے فیصلہ فوری طور پر سنائی اور ملزم کو سزا سنائے، معاشرے میں عدم برداشت کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔

دوسری جانب  مولانا سمیع الحق نے بھی مشعال خان کے قتل کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف الزام کی بنیاد پر کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top