The news is by your side.

Advertisement

جب شاہجہاں کو حضرت میاں میرؒ کے حجرے تک جانا پڑا

دارا شکوہ صوفی منش اور آزاد خیال انسان تھا اور ایک ایسا مغل شہزادہ تھا جو مذہب اور روحانیت کی طرف مائل تھا۔ اس نے تصنیف کا مشغلہ بھی اپنایا اور صوفیوں کے ساتھ اپنی ارادت کا احوال بھی رقم کیا۔ اس نے اپنے زمانے کے مشہور بزرگ اور صوفیا سے ملاقاتوں اور ان کی صحبت میں‌ بیٹھنے اور ان سے گفتگو کے بارے میں‌ تفصیل سے لکھا ہے۔

آئیے ایسے ہی چند اوراق الٹتے ہیں جن میں‌ دارا شکوہ نے اپنی مذہب اور روحانیت میں‌ دل چسپی اور بزرگوں کے بارے میں‌ بتایا ہے۔

تاریخی کتب کے مطابق دارا شکوہ کی پیدائش 1615ء کی ہے اور 1659ء اس کے جہانِ فانی سے چلے جانے کا سال۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز محل کے اس بیٹے کو قتل کردیا گیا تھا۔

تاریخ میں‌ جہاں‌ دارا شکوہ کا تذکرہ اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ وہ ایک مغل شہزادہ تھا اور ہندوستان میں مغلیہ دور میں اس کا قتل کئی حوالوں‌ سے تاریخ اور تحقیق کا موضوع بنتا رہا ہے، وہیں‌ اسے انفرادی حیثیت میں‌ ایک عالم اور مصنف کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔

مؤرخین اور محققین نے جہاں دارا کو اس کی کتابوں اور بزرگوں سے اس کی عقیدت کے تناظر میں‌ دیکھا اور سمجھا ہے، وہیں بعض نے اس پر تنقید بھی کی ہے اور مختلف حوالوں سے اس کی شخصیت پر اعتراضات اور سوال اٹھائے گئے ہیں۔

’سفینۃ الاولیا‘ دارا شکوہ کی وہ پہلی تصنیف ہے جس میں اس نے تصوف اور صوفیوں پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ وہ 25 برس کا تھا جب اس موضوع پر اپنے خیالات اور علم کو سپردِ قلم کیا۔ اس نے لکھا ہے کہ وہ صوفیوں سے خاص عقیدت رکھتا ہے۔

اس کے لگ بھگ دو برس بعد جب وہ اٹھائیس سال کا تھا، تو’سکینتہ الاولیا‘ سامنے آئی جس میں دارا شکوہ نے حضرت میاں میرؒ (میاں جیو) کا خاص تذکرہ کیا ہے۔ اس میں دارا کے پیر و مرشد حضرت مُلّا شاہؒ عرف لسانُ اللہ اور ان کے شاگردوں کا بھی ذکر ہے۔

حضرت مُلّا شاہؒ حضرت میاں میرؒ کے عزیز شاگرد تھے۔ دارا شکوہ کو اُن کا قرب اور ان کے سامنے مذہبی موضوعات پر خیالات کا اظہار اور صوفیانہ مسائل پر گفتگو کرنے کا موقع ملتا تھا۔ اس نے حضرت مُلّا شاہؒ کی صحبت سے خوب فیض اٹھایا۔ انھوں نے اس کے ذہن اور فکر کو خوب جِلا بخشی اور اس کی تربیت و کردار سازی کی۔

دارا شکوہ اپنے والد شاہ جہاں خرّم کے ساتھ پہلی بار حضرت میاں میرؒ (میاں جیو) سے ملا تو اس کا ذکر اپنی کتاب ’سکینتہُ الاولیا‘ میں‌ کیا ہے۔ یہ بات ہے اس وقت کی جب دارا شکوہ علیل تھا اور چار ماہ علاج کے باوجود بھی صحّت یاب نہ ہوا تھا۔

شہزادہ خرّم دعاؤں کے لیے بزرگ کے دربار پر حاضر ہوئے تھے۔ حضرت میاں میرؒ نے اپنے حجرے تک آنے والے اس سوالی کو اپنے مٹّی کے پیالے میں پانی بھر کر دیا، دعا پڑھی اور وہ پانی دارا کو پلا دیا گیا۔ وہ ہفتہ بھر میں ٹھیک ہوگیا۔

دوسری بار شاہِ جہاں نے دارا شکوہ کے ساتھ پھر حضرت میاں میرؒ کے حجرے کا رخ کیا جس کا مقصد ان سے عقیدت کا اظہار اور دعائیں‌ لینا تھا۔ اس بارے میں دارا شکوہ نے تحریر کیا ہے کہ میاں میرؒ جب باتیں کر رہے تھے تو لونگ چبائے جا رہے تھے اور چبا کر پھینکتے جا رہے تھے۔ دارا ان کی شخصیت کے رعب اور جمال کے زیرِ اثر تھا۔ لکھا ہے کہ وہ یہ چبائے ہوئے لونگ اُٹھا کر کھا لیتا تھا اور اسی کی برکت سے اس کی زبان کو قوتِ بیان حاصل ہوئی۔

(دارا شکوہ کی کتب پر درج مختلف مضامین سے چند پارے)

Comments

یہ بھی پڑھیں