The news is by your side.

Advertisement

میٹھا کھانے کا کوئی تو بہانہ ہو!

مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت، ان کے کردار، جدوجہد اور کارناموں پر بہت کچھ لکھا گیا اور ہندوستان میں عظیم اور تاریخی جدوجہد کے دوران برسوں تک قید و بند کی صعوبتوں پر استقامت کا مظاہرہ اس دور کے مسلمانوں کے لیے مثال تھا۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور ہر میدان میں ان کی راہ نمائی کے لیے مولانا جوہر کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ خاص طور پر مولانا محمد علی جوہر کو اس دور میں صحافت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان سے متعلق ایک دل چسپ واقعہ پیش ہے۔

مولانا محمد علی جوہر رام پور کے رہنے والے تھے۔ ایک دفعہ سیتا پور گئے تو کھانے کے بعد میزبانوں نے پوچھا کہ آپ میٹھا تو نہیں کھائیں گے؟کیوں کہ مولانا کو میٹھا منع تھا۔

مولانا بولے: بھئی کیوں نہیں لوں گا؟ میرے سسرال کا کھانا ہے، کیسے انکار کروں؟

یہ سن کر سب لوگ حیران ہوئے اور پوچھا کہ سیتا پور سسرال کیسے ہوا؟

مولانا بولے: سیدھی سی بات ہے کہ میں رام پور کا رہنے والا ہوں۔ ظاہر ہے سیتا پور میرا سسرال ہوا۔ اس پر سب مسکرانے لگے۔ انھوں نے اپنے ادبی ذوق سے دونوں شہروں کے نام میں خوب رعایت نکالی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں